محمد
عبید رضا عطاری (درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
قرآن مجید
اللہ تعالیٰ کا وہ آخری اور مکمل پیغام ہے جو انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا
۔ یہ کتاب زندگی کے ہر پہلو کو منور کرتی
ہے اور انسان کو فلاحِ دارین کا راستہ دکھاتی ہے ۔ لیکن قرآن کا صحیح فہم اس وقت حاصل ہوسکتا ہے
جب ہم اس کی تفسیر کا مطالعہ کریں، کیونکہ تفسیر قرآن کی تشریح، توضیح اور مقصدِ
الٰہی کو سمجھنے کا ذریعہ ہے ۔
تفسیر کی ضرورت:قرآن کریم عربی زبان میں
نازل ہوا، اور اگرچہ عربی جاننے والے بھی اس کے ظاہری الفاظ سمجھ سکتے ہیں، لیکن آیات
کے شانِ نزول، سیاق و سباق، لغوی معانی، فقہی نکات، اور عقیدتی اصول کو سمجھے بغیر
صحیح مفہوم تک پہنچنا ممکن نہیں ۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر غورو
فکر کرنے ارشاد فرمایا ہے:كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ
اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)
ترجمہ کنز
العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ
لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔ (ص،29)
مزید ایک
مقام پر ارشاد فرمایا:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) ترجمہ کنزالعرفان:تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں
کرتے؟ بلکہ دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں ۔ (محمد:24)
مزید اس کی
تفسیر کرتے ہوئے تفسیر صراط الجنان میں مفتی صاحب ارشاد فرماتے ہیں: کی جن کے
دلوں میں نفاق کے قفل لگے ہیں وہ نہ تو قرآنِ کریم میں
غوروفکر کر سکتے ہیں اورنہ ہی وہ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے
دلوں پرتالے لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے حق کی بات ان میں پہنچ ہی
نہیں پاتی ۔ تدبُّر قرآنِ پاک میں
گہرے غور و خوض کو کہتے ہیں جو تعصبات اور جانبداری سے پاک اورعقل و نقل کے
حقیقی تقاضو ں کے مطابق ہو ۔
محمد
شہیر رضا عطاری (جامعۃ المدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
قرآن کریم
اللہ تعالیٰ کی آخری اور کامل کتاب ہے جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے
۔ اس کے اندر زندگی کے ہر پہلو سے متعلق
رہنمائی موجود ہے، مگر قرآن کے مفاہیم کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے تفسیر کا
مطالعہ نہایت ضروری ہے ۔
تفسیر کی
ضرورت:قرآن مجید کا ہر لفظ گہرے معنی رکھتا ہے، جنہیں صرف ظاہری ترجمہ سے مکمل
طور پر سمجھنا ممکن نہیں ۔ قرآن میں ایسے
مضامین، احکام اور تاریخی واقعات بیان کیے گئے ہیں جن کی وضاحت، شانِ نزول، اور
پسِ منظر کو جانے بغیر درست مفہوم تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے ۔ اس لیے تفسیر کا مطالعہ ہمیں قرآن کے حقیقی پیغام
کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے ۔
تفسیر کی
اہمیت:
(1)صحیح
فہمِ قرآن حاصل ہوتا ہے: تفسیر کے ذریعے ہم جان پاتے ہیں کہ آیات کا مطلب کیا ہے
اور اللہ تعالیٰ کی مراد کیا ہیں ۔
(2)عملی
زندگی میں رہنمائی: تفسیر پڑھنے سے انسان اپنی زندگی کو قرآن کے مطابق ڈھالنے کے
قابل بنتا ہے ۔
(3)عقائد و
عبادات کی درستگی: بہت سے مسائل میں قرآن کی آیات کی تشریح ضروری ہے تاکہ عقیدے
اور عبادات میں کوئی غلطی نہ ہو ۔
(4) دعوت و
تبلیغ میں آسانی: جو شخص تفسیر جانتا ہے، وہ دوسروں کو قرآن کا پیغام مؤثر انداز میں
پہنچا سکتا ہے ۔
(5)علم و
بصیرت میں اضافہ: مطالعۂ تفسیر سے دل منوّر اور عقل روشن ہوتی ہے، اور انسان کا
تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہوتا ہے ۔
قرآن کریم
کا مطالعہ بغیر تفسیر کے ایسے ہے جیسے کوئی خزانہ بند صندوق میں ہو ۔ تفسیر اس چابی کی مانند ہے جو اس خزانے کو
کھولتی ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ
وہ علمائے کرام کی لکھی ہوئی معتبر تفاسیر کا مطالعہ کرے تاکہ وہ قرآن کے پیغام کو
سمجھ کر اپنی زندگی کو اس کے مطابق گزار سکے ۔
محمد ثاقب رضا (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
مطالعہ کا معنی:مطالعہ کا معنی غور اور توجہ سے کسی چیز
کو اس غرض سے دیکھنا کہ اس سے واقفیت پیدا ہو جائے جبکہ عام طور پر کتاب پڑھنے کو
مطالعہ کہا جاتا ہے ۔
علم انسان کی بنیادی ضرورت ہے جسے پورا کرنے کا اہم ترین
ذریعہ مطالعہ ہے ۔ یہ مطالعہ ہی کا انمول
ترین فائدہ ہے کہ اس سے انسان حصول علم کی طرف مائل ہوتا ہے، اپنی معلومات کو وسعت
دیتا ہے، ایک نئی فکر اور سوچ لیتا ہے، فکر و نظر کا زاویہ وسیع تر کرتا ہے، اپنی
ذات کو پہچانتا ہے، معاشرے میں بسنے والوں کو سمجھنے میں مدد پاتا ہے، اپنے اندر
اچھائی برائی کی پہچان پیدا کرتا ہے اور کائنات کے پوشیدہ راز دریافت کرتا ہے
۔ دنیا میں جتنے بھی بڑے علماء اور بزرگان
دین گزرے ہیں مطالعہ ان کی زندگی کا اہم اور لازمی جز تھا ۔
تفسیر قرآن
پاک کے مطالعہ کی اہمیت:قرآن کریم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کلام پاک ہے
۔ اسی تناسب سے اس سے متعلق علوم اہم اور
افضل خصوصاً علم تفسیر اجل العلوم ہے ۔
مطالعہ تفسیر
کی ضرورت:مطالعہ تفسیر کی ضرورت کتنی ہے یہ تو علم تفسیر کی اہمیت سے معلوم ہو ہی
جاتا ہے کیونکہ علم تفسیر تینوں جہتوں یعنی موضوع، غرض اور حاجت میں افضل و اعلیٰ
ہے ۔
ایاس بن
معاویہ کا قول:ایاس بن معاویہ نے کہا: ان لوگوں کی مثال جو قرآن پڑھتے ہیں اور اس کی
تفسیر نہیں جانتے اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس ان کے بادشاہ کی کتاب رات کو آئی ہو
اور ان کے پاس چراغ نہ ہو، انہیں خوف لاحق ہو اور وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ کتاب میں
کیا ہے ۔ اور اس شخص کی مثال جو تفسیر جانتا ہو اس شخص کی طرح ہے جو ان کے پاس
چراغ لایا ہو پھر انہوں نے وہ پڑھا جو کچھ کتاب میں تھا ۔
(الجامع
الاحکام، تفسیر قرطبی، جلد1، صفحہ26، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن و اہلِہ)
قرآن پاک
کا ترجمہ اور تفسیر کی ضرورت:
بعض اوقات
ہم قرآن پاک پڑھتے ہیں اور ترجمہ بھی پڑھتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے قرآن بھی
پڑھا ہے، ترجمہ بھی پڑھا ہے، جو کچھ قرآن کہتا ہے ہم نے وہ اردو میں بھی پڑھا ہے،
ہمیں تو پتہ ہے سب کچھ ۔
قرآن پاک کی
تفسیر کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے اس قدر ضروری ہے کہ جس کو بیان کرنا ممکن نہیں
۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ تفسیر
کے مطالعہ کو اپنا معمول بنائے اور اپنی زندگی کو قرآن پاک میں بیان کردہ اللہ
تبارک و تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزارے، کہ جو بندے کو دنیا میں بھی کامیابی کی
طرف لے کر جاتے ہیں اور آخرت میں بھی پیچھے نہیں چھوڑتے بلکہ آخرت میں بھی ہمارے یہی
دنیاوی اعمال ہی ہمیں اللہ کے حکم سے جنت کی طرف لے کر جائیں گے اگر یہ اعمال
ہمارے اچھے ہوئے تو ۔
قرآن پاک کی
تفسیر کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے دینی، اخلاقی اور
روحانی ضرورت ہے ۔ کیونکہ تفسیر ہی وہ علم ہے جو ہمیں قرآن پاک کے اصل مفہوم،
مقاصد اور احکام کو صحیح طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے ۔ بغیر تفسیر کے قرآن
پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے بغیر چراغ کے کتاب دیکھنا الفاظ تو نظر آتے ہیں مگر مطلب واضح نہیں ہوتا ۔ تفسیر کے ذریعے ہی ہمیں
قرآن کا حقیقی درس، عقائد کی درستگی، شریعت کی تفہیم اور زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ
معلوم ہوتا ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر کے مطالعہ کو
اپنی زندگی کا لازمی معمول بنائے، تاکہ اس کی سوچ، عمل اور کردار قرآن و سنت کے
مطابق ڈھل جائے، اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرے ۔
فیصل مختار (درجۂ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور، پاکستان)
تفسیر قرآن
مجید کی تشریح اور وضاحت ہے، جو مسلمانوں کے لیے زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی
کا ذریعہ ہے ۔ تفسیر کی اہمیت کو مندرجہ ذیل
نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:
(1)قرآن مجید
کی سمجھ:امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"التفسير
يبين لنا معاني القرآن ويهدينا إلى الصراط المستقيم، ويعلمنا الأخلاق الحسنة"ترجمہ:
تفسیر ہمیں قرآن مجید کے معانی سمجھاتی ہے، اور ہمیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی
کرتی ہے، اور ہمیں اچھے اخلاق سکھاتی ہے ۔ ( تفسیر قرطبی، ، جلد 1، صفحہ 5)
(2) احکام
کی وضاحت:تفسیر احکام کی وضاحت کے لیے ضروری ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "قرآن کے احکام کو سمجھنے کے
لیے تفسیر ضروری ہے ۔ " (مسند احمد، جلد 1، صفحہ 101) قرآن میں بہت سے احکام
ہیں جن کی وضاحت کے لیے تفسیر کی ضرورت ہے تاکہ ہم ان کو سمجھ سکیں اور ان پر عمل
کر سکیں ۔
(3)اسلامی
تعلیمات کی وضاحت: تفسیر اسلامی تعلیمات کی وضاحت کرتی ہے، جس سے مسلمانوں کو
اسلام کی اصل تعلیمات کا پتہ چلتا ہے ۔ امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "تفسیر اسلامی تعلیمات کی وضاحت کرتی
ہے، اور یہ مسلمانوں کو اسلام کی اصل تعلیمات کا پتہ چلاتی ہے ۔ "(التفسیر
الکبیر، جلد 1، صفحہ 101)
(4)عقائد کی
اصلاح: تفسیر مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح کرتی ہے، جس سے وہ صحیح اسلامی عقائد پر
عمل کر سکتے ہیں ۔ امام غزالی رحمہ اللہ
فرماتے ہیں: "تفسیر مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح کرتی ہے، اور یہ انہیں صحیح
اسلامی عقائد پر عمل کرنے کی رہنمائی کرتی ہے ۔ "(احیاء علوم الدین، جلد 1،
صفحہ 101)
(5)اخلاقیات
کی تعلیم: تفسیر مسلمانوں کو اخلاقیات کی تعلیم دیتی ہے، جس سے وہ اچھے اخلاق کے
مالک بن سکتے ہیں ۔ امام قرطبی رحمہ اللہ
فرماتے ہیں: "تفسیر مسلمانوں کو اخلاقیات کی تعلیم دیتی ہے، اور یہ انہیں
اچھے اخلاق کے مالک بننے کی رہنمائی کرتی ہے ۔ (تفسیر قرطبی، ، جلد 1، صفحہ 5)
ثابت ہوا
کے تفسیر کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور مسلمانوں کو تفسیر کا
مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ قرآن مجید کی سمجھ حاصل کر سکیں اور اسلامی تعلیمات پر
عمل کر سکیں ۔
رضوان علی قادری رضوی (درجۂ ثانیہ جامعۃ المدینہ ٹاؤن
شب لاہور، پاکستان)
قرآن مجید
اللہ ربُّ العزّت کا پاک کلام ہے، جو ہدایت، رحمت اور نور کا خزانہ ہے ۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں انسانیت کی فلاح، دنیا و
آخرت کی کامیابی، اور قلب و روح کی سکونت کا پیغام ہے ۔ لیکن افسوس! بہت سے مسلمان قرآن تو پڑھتے ہیں
مگر اس کے معانی و مطالب سے ناواقف رہ جاتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے:كِتٰبٌ
اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ
اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)
ترجمہ کنز
الایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل
مند نصیحت مانیں ۔ (سورۃ ص: 29)
قرآن صرف
پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے ۔ تفسیر کا مطالعہ ہمیں یہی سمجھاتا ہے کہ ہر آیت
کا پیغام کیا ہے، کب نازل ہوئی، اور اس سے ہمیں کیا سیکھنا چاہیے ۔
اے عاشقانِ
قرآن!تفسیر کا مطالعہ محض علم حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایمان کو تازہ کرنے،
دلوں کو منور کرنے، اور زندگی کو قرآن کے مطابق بنانے کا ذریعہ ہے ۔ دعوتِ اسلامی
کے مدنی ماحول میں الحمدُ للہ "فیضانِ تفسیر" کے درس، "مدنی
مذاکرے" اور "قرآنی حلقے" ہمیں یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ ہم قرآن
کو سمجھیں، اس کی تفسیر سے روشنی حاصل کریں، اور اپنی زندگی میں قرآنی تعلیمات کو
نافذ کریں ۔
آئیے آج نیت
کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ عزوجل ہم روزانہ یا ہفتہ وار تفسیر کا مطالعہ کریں گے،
علمائے کرام سے رہنمائی لیں گے، اور اپنی زندگی کو قرآن کے نور سے منور کریں گے ۔
اللہ رب
العزت نے قرآن مجید کو انسان کی رہنمائی کا ذریعہ بنایا ہے تو اگر ہمیں یہ ہی معلوم
نہ ہو کہ کس آیت میں کیا فرمایا گیا ہے تو
ہمارا اس پر عمل سھل(آسان) نہ ہوگا ۔ بہت
کم لوگ ہے جو قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور ان میں بہت کم ہے جو قرآن کریم کو
مع ترجمہ پڑھتے ہیں اور ان میں سے بھی بہت کم ہے جو قرآن کریم کے ترجمہ کو تفسیر
کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ بغیر اس کہ قرآن مجید
کی آیات کا صحیح مفہوم سمجھنے سے ہم قاصر رہے گے ۔ آج ہم قرآن مجید کی تفسیر کی ضرورت و اہمیت کے
بارے میں پڑھے گے ۔
قرآن کی
تفسیر نہ پڑھنے والوں کی مثال :حضرت اِیاس بن معاویہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :جو لوگ قرآنِ مجید پڑھتے ہیں اور وہ ا س کی تفسیر نہیں جانتے ان کی
مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے
پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط
کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟
اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور ا س کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح
ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا
پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر قرطبی، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن
واہلہ، ۱/۴۱، الجزء الاول، ملخصاً)
اس قول میں
ہے کہ اگر ہم فرمان حق تعالیٰ کا مفہوم نہ سمجھے گے تو اس وقت تک ہمیں پتا ہی نہیں
چلے گا کہ ہمیں کیا عمل کرنا ہے ۔ ایسا نہیں
ہے کہ صرف عربی سیکھ لی جائے تو اس سے قرآن کریم کی سمجھ لگ جائے گی تو یہ غلط ہے کیونکہ
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی عربی میں ماہر ہونے کے باوجود نبی کریم ﷺ سے
پوچھتے تھے ۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین ﷺ
محمد ارسلان سلیم عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
قرآن مجید
اللہ تعالیٰ کا وہ پاک کلام ہے جو انسان کی ہدایت، اصلاحِ کردار اور فلاحِ آخرت کے
لیے نازل ہوا ۔ مگر قرآن کے پیغام کو
سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے صرف تلاوت کافی نہیں، بلکہ اس کے معانی اور
مقاصد کو سمجھنا بھی ضروری ہے ۔ اسی فہمِ
قرآن کا ذریعہ "تفسیر" ہے ۔
(1)قرآن
فہمی کے لیے تفسیر کی ضرورت:قرآن کریم کے مضامین گہرے اور معانی وسیع ہیں
۔ ہر آیت میں کئی پہلو اور حکمتیں پوشیدہ
ہیں جنہیں عام قاری بغیر رہنمائی کے سمجھ نہیں سکتا ۔ تفسیر ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہر آیت کا مطلب،
مقصد اور شانِ نزول کیا ۔
(2)زبان
اور پس منظر کی وضاحت:قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا، اور اس کے کئی
الفاظ و محاورے عربی تہذیب سے متعلق ہیں ۔ تفسیر کے ذریعے ان الفاظ کے صحیح معانی، تاریخی پس منظر اور شانِ نزول کو
سمجھنا ممکن ہوتا ہے ۔ یہ چیز قرآن کے پیغام
کو زیادہ واضح اور مؤثر بناتی ہے ۔
(3) درست
عقیدہ و عمل کی رہنمائی:تفسیرِ قرآن انسان کو صحیح عقیدہ، درست عبادت اور
بہتر اخلاق کی تعلیم دیتی ہے ۔ مفسرین
قرآن کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ کن باتوں پر ایمان لانا، کن سے اجتناب کرنا، اور
کس طرح زندگی گزارنا چاہیے ۔ اس طرح
مطالعۂ تفسیر سے عمل میں درستگی پیدا ہوتی ہے ۔
(4) صحابہ
و تابعین کی روش:صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کے معانی کو سمجھنے کے لیے خود رسول اللہ ﷺ
سے سوال کرتے تھے ۔ تابعین اور بعد کے
مفسرین نے بھی قرآن کی تشریح ، وضاحت کو اپنا علمی فریضہ سمجھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تفسیر کا مطالعہ دین کا
بنیادی تقاضا ہے ۔
(5) روحانی
و اخلاقی تربیت:مطالعۂ تفسیر انسان کے دل کو منور کرتا ہے، اس میں خشیتِ الٰہی، صبر، شکر،
عدل اور نرمی جیسے اوصاف پیدا کرتا ہے ۔ تفسیر کے مطالعے سے انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور زندگی کے ہر مرحلے میں
قرآن اس کی رہنمائی کرتا ہے ۔
تفسیرِ
قرآن کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ ایمانی ضرورت ہے ۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اس پر
عمل کرتا
ہے، وہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو ہوتا ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مستند مفسرین
کی تفاسیر کا مطالعہ کرے اور قرآن کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکیں ۔
احمد رضا عطاری (درجۂ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
فاروقاعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
تفسیر کی
اہمیت: قراٰنِ پاک کی من مانی تشریح کرنےاوراپنےنقطہ ٔنظرکومُسَلَّط کرنےیااسلام
سے مُتَصادِم (ٹکرانے والے) نَظریات کاپرچار کرنےکےلئےغلط وضاحت کرنا سخت حرام ہے،چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے
پاک کلام قراٰنِ مجیدکوسمجھانےکےلئےجلیلُ القدر عُلمائے کِرام نے عظیم ُالشّان تفاسیرتحریر فرمائیں
تاکہ فیضانِ قراٰن عام ہواورغلط تشریحات
کرکے تباہی کی طرف دھکیلنے والے اِنسان نُما شیطانوں کا راستہ بھی روکا جاسکے ۔ آج بھی علم ِ دین کے شائقین تفسیرِ جلالین اور تفسیرِ
بَیضاوی شریف جیسی کتابیں ماہر عُلَمائے
کرام کی صُحبت میں سالہا سال رہ کرسمجھتے ہیں ۔ آئیے تفسیر کی اہمیت و ضرورت کے
متعلق کچھ ملاحظہ کرتے ہیں ۔
( 1 ) غور و فکر کرنا :وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ
اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور
کہیں وہ دھیان کریں ۔ (النحل:44)
تفسیر: قرآن
مجید نازل کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی آیتوں ( کی تفسیر ) میں غور و فکر
کریں اور ان میں موجود حقائق اور عبرت انگیز چیزوں پر مطلع ہوں ۔
( صراط
الجنان فی تفسیر القرآن ، پارہ : 14 ، سورہ النحل ، آیت نمبر : 44 ، جلد نمبر : 5 ، صفحہ نمبر : 325 ، مکتبۃ المدینہ )
( 2 )
افتراء نہ باندھنا : امام حسن
بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیاکہ
ان میں سے کوئی قرآنِ مجید کی آیت پڑھتا ہےجس سلام اور وہ اس کے معانی سے جاہل
ہو تا ہے تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا شروع کر دیتا
ہے ۔
( البحر المحیط، مقدمۃ المؤلف ، الترغیب فی تفسیر
القرآن ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 118-119)
( 3 ) باطنی باریکیاں جاننا :امام جلال الدین سیوطی
شافعی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس زمانے میں قرآن مجید عربی میں نازل ہوا اس
وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے ۔ وہ اس کے ظاہر اور اس کے احکام
کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر بھی غور و فکر کرنے اور نبی کریم ﷺ سے سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھیں ۔ ( رسالہ : تاریخ حدیث و تفسیر ، صفحہ
نمبر : 27 ، مکتبۃ المدینہ )
( 4 ) قرآن
کو نہ سمجھنے کی مثال : ہمیں چاہیے تلاوت قرآن کے ساتھ مستند تفاسیر کے ذریعے
معانی قرآن بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ حضرت ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ
علیہ فرماتے ہیں : جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر
نہیں ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا
اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے
اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم
کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں
لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر قرطبی باب : ما جا فی فضل تفسیر القرآن واہلہ ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 41 )
( 5) علمی
اور عملی باتوں کا علم حاصل ہونا : مشہور تابعی
عالم حضرت ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم میں سے جو حضرات ہمیں قرآن عظیم کی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے بتایا کہ وہ
رسول اللہ ﷺ سے دس آیتیں سیکھتے اور اس وقت تک ان سے آگے نہیں
بڑھتے تھے جب تک ہم ان آیات کی تمام علمی اور عملی باتوں کا علم حاصل نہ کر لیں ۔ (
مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد نمبر : 15 ، صفحہ نمبر
: 436 ، حدیث
نمبر : 30549 )
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو! تفسیر ایک ایسا عظیم الشان علم ہے جسے حاصل کرنے والا اپنی استطاعت
کے مطابق کلام الہی کو سمجھنے کا اعزاز
حاصل کر لیتا ہے اسی لیے ہمیں بھی چاہیے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ
تفسیر کا مطالعہ بھی کریں ۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین بجاہ الخاتم النبین صلی
اللہ علیہ والہ وسلم ۔
محمد شعبان (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور، پاکستان)
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو! تفسیر کی قراءت سے پہلے تفسیر کی اصطلاحات کی معرفت جاننا بھی ضروری
ہے اس لیے کہ انسان اس کے ساتھ ایک مکمل بصیرت پر ہو جاتا ہے قرآن مجید کی تفسیر کی
اہمیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے انسان مکی و مدنی ،ناسخ ومنسوخ،اور شان نزول
والی آیات کو بھی جان لیتا ہے اور اس کے زریعہ وہ آیات کے معانی سمجھنے پر بھی
قادر ہو جاتا ہے ۔ قرآن مجید کی تفسیر کے مطالعہ سے انسان کو بہت
سارے احکامات سیکھنے کو ملتے ہیں ایک انسان کو قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ساتھ
ترجمہ قرآن و تفسیر قرآن بھی پرھنی چاہیے ۔
(1)
احکامات کا مجہول ہونا : علامہ سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں تفسیر کی حاجت
اس لیے بھی ضروری ہے کہ عرب کے بڑے بڑے فصحاء کے زمانے میں عربی زبان میں نازل
فرمایا تو وہ اس کے ظاہر اور اس کے احکام کو جانتے تھے بہرحال اس کی باطن کی باریکیاں
ان کے لئے ظاہر نہ تھیں مگر بہث اور غورو فکر کے بعد اور ان کا آقا ﷺ سے
سوال کرنے کے بعد اس لیے بھی ضروری ہے ۔
(تفسیر البیضاوی
المسمی انوار التنزیل واسراالتاویل ، صفحہ نمبر 15 ، مجلس المدینہ العلمیہ الدعوتہ اسلامیہ)
(2) قرآن مجید کے احکام کو صحیح طریقہ سے سمجھنا :مطالعہ
قرآن کے ساتھ تفسیر اس لیے ضروری ہے تاکہ قرآن مجید کا پیغام صحیح طریقہ سے سمجھا
جا سکے ،احکام شریعت پر درست عمل کیا جا سکے، گمراہی، و غلط فہمی اور من پسند تشریحات
سے پچاسکے ہمیں چاہیے کہ ہم معتبر تفاسیر کے زریعہ قرآن مجید سمجھے ۔
(3) اللہ
تعالیٰ پر افتراء باندھنے سے بچنا : حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیا کہ ان میں سے کوئی قرآن مجید کی آیت پرھتا ہے اور
وہ اس کے معانی سے جاہل ہوتا ہے تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر
افتراء باندھنا شروع کردیتا ہے ۔
(البحر
المحیط، المؤلف، الترغیب فی تفسیر
القرآن،118-119 ، )
قرآن فہمی
بہت بڑی عبادت ہے اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن سمجھنا اور دوسرے تک پہنچانے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
عبید الرحمن (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
قرآن مجید
اللہ کی آخری اور مقدس کتاب ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت نور اور زندگی گزارنے کا
مکمل ضابطہ فراہم کرتی ہے یہ کتاب ہر دور اور ہر زمانے کہ انسانوں کے لیے رہنمائی
کا سرچشمہ ہے قرآن پاک کی زبان عربی ہے جو بہت ہی خوبصورت جامع اور بلیغ زبان ہے
تاہم قرآن کی آیات کے پیچھے گہرے معانی
اور مفاہم چھپے ہوئے ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے محض زبان عربی کا جاننا کافی نہیں
بلکہ قرآن پاک کی تفسیر کا مطالعہ کرنا ضروری ہے جس کی مدد سے قرآن کی آیات کا
مفہوم اور شان نزول اور احکام بہتر طور پر سمجھ آئیں گے تفسیر قرآن کا مطالعہ کرنا
اس زمانے میں تو بے حد ضروری ہے ۔
مطالعہ تفسیر
کی اہمیت: مطالعہ تفسیر کی اہمیت مزید ان چیزوں سے اور واضح ہوگی ،قرآن کی حقیقی
سمجھ:تفسیر کے مطالعے سے قرآن کی آیات کا حقیقی مطلب معلوم ہوتا ہے جو ظاہری مفہوم
سے کئی زیادہ گہرا اور جامع ہوتا ہے اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔
دینی اور
دنیاوی رہنمائی: تفسیر کے مطالعے سے زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی ملتی ہے چاہے وہ عبادات
ہوں یا معاملات یا اخلاقیات ہوں یا معاشرتی قوانین اس سے انسان اپنی زندگی کو قرآن
کے مطابق ڈھال سکتا ہے ۔
علم اور
حکمت میں اضافہ: قرآن کی تفسیر کا مطالعہ دین کے علوم میں اضافے کا سبب ہے اس سے مسلمان نہ
صرف قرآن کو سمجھتا ہے بلکہ اس کی حکمت اور مقاصد کو بھی جانتا ہے ۔
عملی زندگی
میں بہتری: جب تفسیر کا مطالعہ کر کے قرآن کے احکام اور تعلیمات کو سمجھ کر اپنایا
جاتا ہے توہر فرد کی زندگی بہتر ہوتی ہے
اور معاشرہ فلاح کی راہ پر گامزن ہوتا ہے ۔
مطالعہ تفسیر
کی ضرورت: شان نزول کا علم: کہیں آیات ایسے مواقع پر نازل ہوئیں جن کا تعلق مخصوص دینی
واقعات یا مسائل سے ہے اور ہمیں اس کا علم تفسیر کے متعلق سے ہی حاصل ہوگا ۔
احکام اور
شرعی مسائل کی وضاحت:قرآن مجید میں بہت سے احکام قوانین اور اصول بیان کیے گئے ہیں جو زندگی کے
مختلف شعبوں جیسے عبادات معاملات اخلاق اور معاشرت سے متعلق ہیں ان احکام کو
سمجھنے کے لیے اور عمل کرنے کے لیے ہمیں تفسیر کے متعلق کی ضرورت پیش آئے گی ۔
گمراہی اور
غلط فہمیوں سے بچاؤ: اگر قرآن پاک کو بغیر تفسیر کے پڑھا جائے تو اس کا مطلب غلط سمجھا جا سکتا
ہے جس سے غلط عقائد اور عمل کی راہ ہموار ہوتی ہے تفسیر قرآن کا مطالعہ کرنا قرآن
کو صحیح طریقے سے سمجھنے کا ذریعہ ہے جو ہمیں گمراہی اور غلط فہمی سے بچنے میں
رہنمائی کرے گا ۔
آخر میں
نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے اور اس پر عمل کرنے کے لیے تفسیر کا
مطالعہ نہایت ضروری ہے تفسیر قرآن کی گہرائیوں میں جانے کا ذریعہ ہے جو ہمیں آیات
کے حقیقی مفاہیم احکام اور حکمتوں سے روشناس کرائے گی بغیر تفسیر کہ قرآن پاک
پڑھنا کسی بھی اعتبار سے نامکمل اور بعض اوقات خطرناک بھی ہو سکتا ہے لہذا ہمیں
تفسیر قرآن کا مطالعہ ضرور بضرور کرنا چاہیے ۔
شاہ زیب رضا (درجۂ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
لفظ تفسیر
عربی زبان کے مادّہ "فَسَرَ" سے
ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو کھولنا، واضح کرنا یا بیان کرنا ۔ اصطلاحاً
تفسیر سے مراد قرآن مجید کے الفاظ، معانی، احکام اور مقاصد کی وضاحت کرنا ہے، تاکہ
بندۂ مومن قرآن کے پیغام کو صحیح طور پر سمجھ کر اس پر عمل کر سکے ۔ قرآن مجید کی
تلاوت بلا شبہ باعثِ ثواب ہے، مگر محض تلاوت سے قرآن کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا
جب تک کہ اس کے معانی و مطالب پر غور نہ کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد
فرماتا ہے:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ
ترجمہ کنز
الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (سورۃ محمد: 24)
یہ آیت ہمیں
یہ سبق دیتی ہے کہ قرآن پر تدبّر و تفکّر کرنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے
۔ جب تک انسان قرآن کے مفہوم میں غوطہ زن
نہیں ہوتا، اس کا دل اس نور سے منوّر نہیں ہو سکتا جو اللہ نے ہدآیت کے طور پر
نازل فرمایا ہے ۔
تفسیر کا
مطالعہ اسی مقصد کی تکمیل کا ذریعہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے قرآن کے اسرار و معانی
ہم پر منکشف ہوتے ہیں ۔ تفسیر کا مطالعہ انسان کے لیے علم و بصیرت کے دروازے کھول
دیتا ہے ۔ یہ نہ صرف قرآن کی سمجھ بوجھ کو
آسان بناتا ہے بلکہ انسان کے عقیدہ، فکر اور عمل کو بھی درست سمت میں لے آتا ہے
۔ جب ہم مفسرینِ کرام کے اقوال اور ان کی
تفسیر پر غور کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کا ہر لفظ حکمت و معرفت کا سمندر
ہے ۔
آج کے دور
میں جب لوگ صرف ظاہری علم تک محدود ہو گئے ہیں، ہمیں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم
اپنے گھروں، مساجد اور مدارس میں درسِ تفسیر کو زندہ کریں ۔ مطالعۂ تفسیر دراصل
زندگی کا وہ روشن چراغ ہے جو نہ صرف دنیا میں راہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ آخرت کے
اندھیروں میں بھی روشنی بن جاتا ہے ۔
مطالعۂ تفسیر
سے قرآن پاک کو صحیح سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دینے
کے لیے بے حد ضروری ہے، یہ علم دین کی بنیاد ہے اور اسلامی علوم، جیسے کہ عربی
زبان، نحو، اور بلاغت کی سمجھ ضروری ہے تاکہ قرآن کو درست طور پر سمجھا جا سکے،
تفسیر کا مطالعہ غلط فہمیوں اور گمراہیوں سے بچنے اور صحیح عقائد پر قائم رہنے میں
مدد کرتا ہے ۔
جب حضور
اقدس صﷺ نے یہ ارشاد فرمایا "مَنْ نُوْقِشَ
الْحِسَابَ عُذِّبَ ترجمہ:یعنی جس سے اعمال کے حساب کے
معاملے میں جرح کی گئی تو وہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا" ۔ تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالى عنہا نے ان
آیات " فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸) وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ(۹)" کے بارے میں حضور پر نور صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَیہ وَالِہ
وَسَلَّمَ سے دریافت کیا ۔ آپ صَلَّی اللهُ تَعَالَى عَلَیہ وَالِہ
وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا یہ تو صرف اعمال کا پیش ہونا ہے ۔ یعنی یہ وہ مناقشہ نہیں ہے جو حدیث میں فرمایا
گیا ہے ۔ جب میدان فصاحت و بلاغت کے
شہسواروں کو قرآن کے معنی سمجھنے کے لئے الفاظ قرآنی کی تفسیر کی حاجت ہوئی توہم
اس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جس کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس
چیز کے محتاج ہیں کیونکہ کے ہمیں بغیر سیکھے لغت کے اسرار و رموز اور اس کے مراتب
معلوم نہیں ہو سکتے ۔ (الاتقان فی علوم القرآن ، النوع السابع والسبعون؛ فصل واما
وجہ الحاجتہ الیہ الخ ج2/ ص546،547، ملخصا)
حضرت ایاس
بن معاویہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:جو لوگ قرآن مجید
پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس
رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس
خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟
اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح
ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا
پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر
قرطبی؛ باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واھلہ ج1/ص41؛ الجزءالاول؛ ملخصا)
صحابہ کرام کے اتنے فصیح و بلیغ ہونے کے باجود
بھی اس طرح کی مشکلات ان کیلئے آسکتی ہیں
تو ہمارے لئے تو بہت زیادہ ہوں گی ۔
مطالعہِ
تفسیر کی ضرورت کے کچھ ضروری اور اہم پہلو:
قرآن مجید
فرقان حمید کی صحیح سمجھ،تفسیر سے قرآن پاک کے معنی اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ عمل کے لیے رہنمائی: تفسیر قرآن پر عمل کرنے کے
لیے درست رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔
تبلیغ کے لیے
ضروری :دعوتِ اسلامی کے مبلغین کے لیے یہ تفسیر کا مطالعہ بے حد ضروری ہے تاکہ وہ
دوسروں تک قرآن کی صحیح تعلیم پہنچا سکیں ۔ گمراہی سے بچاؤ:یہ علم غلط تاویلات اور گمراہ کن خیالات سے بچاتا ہے، جو کہ
قرآن کی غلط تشریح کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔
مفسر کا
کردار: مفسر (تفسیر کرنے والا) قرآن کی شرح احادیث کی روشنی میں کرتا ہے، جو اس کی
اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے ۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا عظیم کلام ہے، جو بنی نوع
انسان کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ۔ اس کے
اندر ظاہری الفاظ کے ساتھ ساتھ بے شمار معانی، حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں ۔ ان معانی کو سمجھنے کے لیے علمِ تفسیر کی ضرورت
پیش آتی ہے، کیونکہ بغیر تفسیر کے قرآن کے حقیقی مفہوم تک پہنچنا ممکن نہیں ۔
تفسیر کی
ضرورت:قرآن مجید کی درست تفہیم کے لیے تفسیر کی ضرورت درج ذیل وجوہات کی بنا پر
ہے:
قرآن عربی
زبان میں نازل ہوا، مگر ہر شخص عربی کے مشکل معانی نہیں جانتا ۔
بہت سی آیات
کا شانِ نزول جاننا ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کا صحیح مفہوم سمجھا جا سکے ۔ بعض احکام
قرآن میں اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، جن کی وضاحت تفسیر کے ذریعے ہوتی ہے ۔ تفسیر
کے بغیر غلط فہمیاں اور باطل تاویلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔
قرآن مجید
میں تفسیر کی اہمیت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى
قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴)
ترجمہ کنز
الایمان: تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہیں؟(سورۃ
محمد: 24)
اور ایک
اور مقام پر فرمایا: وَ
اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ
ترجمہ کنز
الایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو
جو ان کی طرف اترا ۔ (سورۃ النحل: 44)
یہ آیات
واضح کرتی ہیں کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اور اس کی تشریح بیان کرنا عین دینی
ضرورت ہے ۔
احادیث میں
تفسیر کی اہمیت:رسولِ اکرم ﷺ سب سے پہلے مفسرِ قرآن تھے ۔ آپ ﷺ نے اپنی سنت اور ارشادات سے قرآن کے مفہوم
کو واضح فرمایا ۔
حضرت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم جب نبی کریم ﷺ سے دس آیات سیکھتے تو
ان کے معانی اور ان پر عمل بھی سیکھتے تھے ۔ (جامع الترمذی، حدیث: 2905)
تفسیر کے
فوائد:قرآن کے صحیح معانی اور پیغام کی فہم حاصل ہوتی ہے ۔ عقائد و اعمال میں
درستگی آتی ہے ۔ گمراہی اور باطل تاویلات
سے نجات ملتی ہے ۔ ایمان میں اضافہ اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔ بندہ اللہ کی
قربت حاصل کرتا ہے ۔
تفسیر وہ
علم ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے کلام کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے ۔ اس کے بغیر قرآن مجید کو مکمل
طور پر
سمجھنا ممکن نہیں ۔ اس لیے ہر مسلمان کو
چاہیے کہ معتبر مفسرین کی تفاسیر جیسے تفسیر خزائن العرفان، تفسیر روح البیان، تفسیر
ابن کثیر وغیرہ کا مطالعہ کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو صحیح طور پر سمجھ
سکے اور اس پر عمل کر سکے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے
اور اس کے نور سے اپنی زندگی منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
Dawateislami