شاہ زیب رضا (درجۂ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
لفظ تفسیر
عربی زبان کے مادّہ "فَسَرَ" سے
ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو کھولنا، واضح کرنا یا بیان کرنا ۔ اصطلاحاً
تفسیر سے مراد قرآن مجید کے الفاظ، معانی، احکام اور مقاصد کی وضاحت کرنا ہے، تاکہ
بندۂ مومن قرآن کے پیغام کو صحیح طور پر سمجھ کر اس پر عمل کر سکے ۔ قرآن مجید کی
تلاوت بلا شبہ باعثِ ثواب ہے، مگر محض تلاوت سے قرآن کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا
جب تک کہ اس کے معانی و مطالب پر غور نہ کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد
فرماتا ہے:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ
ترجمہ کنز
الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (سورۃ محمد: 24)
یہ آیت ہمیں
یہ سبق دیتی ہے کہ قرآن پر تدبّر و تفکّر کرنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے
۔ جب تک انسان قرآن کے مفہوم میں غوطہ زن
نہیں ہوتا، اس کا دل اس نور سے منوّر نہیں ہو سکتا جو اللہ نے ہدآیت کے طور پر
نازل فرمایا ہے ۔
تفسیر کا
مطالعہ اسی مقصد کی تکمیل کا ذریعہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے قرآن کے اسرار و معانی
ہم پر منکشف ہوتے ہیں ۔ تفسیر کا مطالعہ انسان کے لیے علم و بصیرت کے دروازے کھول
دیتا ہے ۔ یہ نہ صرف قرآن کی سمجھ بوجھ کو
آسان بناتا ہے بلکہ انسان کے عقیدہ، فکر اور عمل کو بھی درست سمت میں لے آتا ہے
۔ جب ہم مفسرینِ کرام کے اقوال اور ان کی
تفسیر پر غور کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کا ہر لفظ حکمت و معرفت کا سمندر
ہے ۔
آج کے دور
میں جب لوگ صرف ظاہری علم تک محدود ہو گئے ہیں، ہمیں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم
اپنے گھروں، مساجد اور مدارس میں درسِ تفسیر کو زندہ کریں ۔ مطالعۂ تفسیر دراصل
زندگی کا وہ روشن چراغ ہے جو نہ صرف دنیا میں راہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ آخرت کے
اندھیروں میں بھی روشنی بن جاتا ہے ۔
Dawateislami