واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور سبق آموز واقعہ ہے جس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے دین اسلام کی بقا کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ یہ واقعہ ہمیں صبر، حق پر استقامت اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱) (پ 15، بنی اسرائیل: 81) ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا۔

امام حسین رضی اللہ عنہ نے اسی قرآنی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کا ساتھ دیا۔ آپ نے ظلم و جبر کو قبول نہ کیا بلکہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی قربانی دے کر دین کو زندہ کر دیا۔

نبی کریم ﷺ نے اہل بیت سے محبت کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اس سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے۔(ترمذی، 5/429، حدیث: 3800)

یہ حدیث حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقام اور ان سے محبت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ واقعۂ کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دین کی خاطر قربانی دینا سب سے بڑی سعادت ہے۔

کربلا کا سب سے بڑا سبق صبر اور استقامت ہے۔ شدید پیاس، بھوک اور مشکلات کے باوجود امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 153)

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ظاہری طاقت اہم نہیں بلکہ حق پر قائم رہنا اصل کامیابی ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے کم تعداد کے باوجود باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور قیامت تک کے لئے حق و باطل کا معیار قائم کر دیا۔

ہمیں چاہئے کہ ہم واقعۂ کربلا سے سبق حاصل کریں، سچائی، صبر اور دین کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔ نیز اہل بیت اطہار سے محبت کریں اور ان کی سیرت پر عمل کریں۔