مطالعۂ تفسیر
سے قرآن پاک کو صحیح سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دینے
کے لیے بے حد ضروری ہے، یہ علم دین کی بنیاد ہے اور اسلامی علوم، جیسے کہ عربی
زبان، نحو، اور بلاغت کی سمجھ ضروری ہے تاکہ قرآن کو درست طور پر سمجھا جا سکے،
تفسیر کا مطالعہ غلط فہمیوں اور گمراہیوں سے بچنے اور صحیح عقائد پر قائم رہنے میں
مدد کرتا ہے ۔
جب حضور
اقدس صﷺ نے یہ ارشاد فرمایا "مَنْ نُوْقِشَ
الْحِسَابَ عُذِّبَ ترجمہ:یعنی جس سے اعمال کے حساب کے
معاملے میں جرح کی گئی تو وہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا" ۔ تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالى عنہا نے ان
آیات " فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸) وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ(۹)" کے بارے میں حضور پر نور صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَیہ وَالِہ
وَسَلَّمَ سے دریافت کیا ۔ آپ صَلَّی اللهُ تَعَالَى عَلَیہ وَالِہ
وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا یہ تو صرف اعمال کا پیش ہونا ہے ۔ یعنی یہ وہ مناقشہ نہیں ہے جو حدیث میں فرمایا
گیا ہے ۔ جب میدان فصاحت و بلاغت کے
شہسواروں کو قرآن کے معنی سمجھنے کے لئے الفاظ قرآنی کی تفسیر کی حاجت ہوئی توہم
اس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جس کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس
چیز کے محتاج ہیں کیونکہ کے ہمیں بغیر سیکھے لغت کے اسرار و رموز اور اس کے مراتب
معلوم نہیں ہو سکتے ۔ (الاتقان فی علوم القرآن ، النوع السابع والسبعون؛ فصل واما
وجہ الحاجتہ الیہ الخ ج2/ ص546،547، ملخصا)
حضرت ایاس
بن معاویہ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:جو لوگ قرآن مجید
پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس
رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس
خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟
اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح
ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا
پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر
قرطبی؛ باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واھلہ ج1/ص41؛ الجزءالاول؛ ملخصا)
صحابہ کرام کے اتنے فصیح و بلیغ ہونے کے باجود
بھی اس طرح کی مشکلات ان کیلئے آسکتی ہیں
تو ہمارے لئے تو بہت زیادہ ہوں گی ۔
مطالعہِ
تفسیر کی ضرورت کے کچھ ضروری اور اہم پہلو:
قرآن مجید
فرقان حمید کی صحیح سمجھ،تفسیر سے قرآن پاک کے معنی اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ عمل کے لیے رہنمائی: تفسیر قرآن پر عمل کرنے کے
لیے درست رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔
تبلیغ کے لیے
ضروری :دعوتِ اسلامی کے مبلغین کے لیے یہ تفسیر کا مطالعہ بے حد ضروری ہے تاکہ وہ
دوسروں تک قرآن کی صحیح تعلیم پہنچا سکیں ۔ گمراہی سے بچاؤ:یہ علم غلط تاویلات اور گمراہ کن خیالات سے بچاتا ہے، جو کہ
قرآن کی غلط تشریح کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔
مفسر کا
کردار: مفسر (تفسیر کرنے والا) قرآن کی شرح احادیث کی روشنی میں کرتا ہے، جو اس کی
اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے ۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا عظیم کلام ہے، جو بنی نوع
انسان کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ۔ اس کے
اندر ظاہری الفاظ کے ساتھ ساتھ بے شمار معانی، حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں ۔ ان معانی کو سمجھنے کے لیے علمِ تفسیر کی ضرورت
پیش آتی ہے، کیونکہ بغیر تفسیر کے قرآن کے حقیقی مفہوم تک پہنچنا ممکن نہیں ۔
تفسیر کی
ضرورت:قرآن مجید کی درست تفہیم کے لیے تفسیر کی ضرورت درج ذیل وجوہات کی بنا پر
ہے:
قرآن عربی
زبان میں نازل ہوا، مگر ہر شخص عربی کے مشکل معانی نہیں جانتا ۔
بہت سی آیات
کا شانِ نزول جاننا ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کا صحیح مفہوم سمجھا جا سکے ۔ بعض احکام
قرآن میں اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، جن کی وضاحت تفسیر کے ذریعے ہوتی ہے ۔ تفسیر
کے بغیر غلط فہمیاں اور باطل تاویلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔
قرآن مجید
میں تفسیر کی اہمیت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى
قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴)
ترجمہ کنز
الایمان: تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہیں؟(سورۃ
محمد: 24)
اور ایک
اور مقام پر فرمایا: وَ
اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ
ترجمہ کنز
الایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو
جو ان کی طرف اترا ۔ (سورۃ النحل: 44)
یہ آیات
واضح کرتی ہیں کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اور اس کی تشریح بیان کرنا عین دینی
ضرورت ہے ۔
احادیث میں
تفسیر کی اہمیت:رسولِ اکرم ﷺ سب سے پہلے مفسرِ قرآن تھے ۔ آپ ﷺ نے اپنی سنت اور ارشادات سے قرآن کے مفہوم
کو واضح فرمایا ۔
حضرت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم جب نبی کریم ﷺ سے دس آیات سیکھتے تو
ان کے معانی اور ان پر عمل بھی سیکھتے تھے ۔ (جامع الترمذی، حدیث: 2905)
تفسیر کے
فوائد:قرآن کے صحیح معانی اور پیغام کی فہم حاصل ہوتی ہے ۔ عقائد و اعمال میں
درستگی آتی ہے ۔ گمراہی اور باطل تاویلات
سے نجات ملتی ہے ۔ ایمان میں اضافہ اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔ بندہ اللہ کی
قربت حاصل کرتا ہے ۔
تفسیر وہ
علم ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے کلام کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے ۔ اس کے بغیر قرآن مجید کو مکمل
طور پر
سمجھنا ممکن نہیں ۔ اس لیے ہر مسلمان کو
چاہیے کہ معتبر مفسرین کی تفاسیر جیسے تفسیر خزائن العرفان، تفسیر روح البیان، تفسیر
ابن کثیر وغیرہ کا مطالعہ کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو صحیح طور پر سمجھ
سکے اور اس پر عمل کر سکے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے
اور اس کے نور سے اپنی زندگی منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
Dawateislami