اللہ رب العزت نے قرآن مجید کو انسان کی رہنمائی کا ذریعہ بنایا ہے تو اگر ہمیں یہ ہی معلوم نہ ہو کہ کس آیت میں  کیا فرمایا گیا ہے تو ہمارا اس پر عمل سھل(آسان) نہ ہوگا ۔ بہت کم لوگ ہے جو قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور ان میں بہت کم ہے جو قرآن کریم کو مع ترجمہ پڑھتے ہیں اور ان میں سے بھی بہت کم ہے جو قرآن کریم کے ترجمہ کو تفسیر کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ بغیر اس کہ قرآن مجید کی آیات کا صحیح مفہوم سمجھنے سے ہم قاصر رہے گے ۔ آج ہم قرآن مجید کی تفسیر کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں پڑھے گے ۔

قرآن کی تفسیر نہ پڑھنے والوں کی مثال :حضرت اِیاس بن معاویہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :جو لوگ قرآنِ مجید پڑھتے ہیں اور وہ ا س کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور ا س کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر قرطبی، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن واہلہ، ۱/۴۱، الجزء الاول، ملخصاً)

اس قول میں ہے کہ اگر ہم فرمان حق تعالیٰ کا مفہوم نہ سمجھے گے تو اس وقت تک ہمیں پتا ہی نہیں چلے گا کہ ہمیں کیا عمل کرنا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف عربی سیکھ لی جائے تو اس سے قرآن کریم کی سمجھ لگ جائے گی تو یہ غلط ہے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی عربی میں ماہر ہونے کے باوجود نبی کریم ﷺ سے پوچھتے تھے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین ﷺ