تفسیر کی اہمیت: قراٰنِ پاک کی من مانی تشریح کرنےاوراپنےنقطہ ٔنظرکومُسَلَّط کرنےیااسلام سے مُتَصادِم (ٹکرانے والے) نَظریات کاپرچار کرنےکےلئےغلط وضاحت کرنا سخت حرام ہے،چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاک کلام قراٰنِ مجیدکوسمجھانےکےلئےجلیلُ القدر عُلمائے کِرام نے عظیم ُالشّان تفاسیرتحریر فرمائیں تاکہ فیضانِ قراٰن عام ہواورغلط تشریحات کرکے تباہی کی طرف دھکیلنے والے اِنسان نُما شیطانوں کا راستہ بھی روکا جاسکے ۔ آج بھی علم ِ دین کے شائقین تفسیرِ جلالین اور تفسیرِ بَیضاوی شریف جیسی کتابیں ماہر عُلَمائے کرام کی صُحبت میں سالہا سال رہ کرسمجھتے ہیں ۔ آئیے تفسیر کی اہمیت و ضرورت کے متعلق کچھ ملاحظہ کرتے ہیں ۔

( 1 ) غور و فکر کرنا :وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں ۔ (النحل:44)

تفسیر: قرآن مجید نازل کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ لوگ اس کی آیتوں ( کی تفسیر ) میں غور و فکر کریں اور ان میں موجود حقائق اور عبرت انگیز چیزوں پر مطلع ہوں ۔

( صراط الجنان فی تفسیر القرآن ، پارہ : 14 ، سورہ النحل ، آیت نمبر : 44 ، جلد نمبر : 5 ، صفحہ نمبر : 325 ، مکتبۃ المدینہ )

( 2 ) افتراء نہ باندھنا : امام حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیاکہ ان میں سے کوئی قرآنِ مجید کی آیت پڑھتا ہےجس سلام اور وہ اس کے معانی سے جاہل ہو تا ہے تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا شروع کر دیتا ہے ۔

( البحر المحیط، مقدمۃ المؤلف ، الترغیب فی تفسیر القرآن ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 118-119)

( 3 ) باطنی باریکیاں جاننا :امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس زمانے میں قرآن مجید عربی میں نازل ہوا اس وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے ۔ وہ اس کے ظاہر اور اس کے احکام کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر بھی غور و فکر کرنے اور نبی کریم ﷺ سے سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھیں ۔ ( رسالہ : تاریخ حدیث و تفسیر ، صفحہ نمبر : 27 ، مکتبۃ المدینہ )

( 4 ) قرآن کو نہ سمجھنے کی مثال : ہمیں چاہیے تلاوت قرآن کے ساتھ مستند تفاسیر کے ذریعے معانی قرآن بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ حضرت ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر قرطبی باب : ما جا فی فضل تفسیر القرآن واہلہ ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 41 )

( 5) علمی اور عملی باتوں کا علم حاصل ہونا : مشہور تابعی عالم حضرت ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو حضرات ہمیں قرآن عظیم کی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے دس آیتیں سیکھتے اور اس وقت تک ان سے آگے نہیں بڑھتے تھے جب تک ہم ان آیات کی تمام علمی اور عملی باتوں کا علم حاصل نہ کر لیں ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد نمبر : 15 ، صفحہ نمبر

: 436 ، حدیث نمبر : 30549 )

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! تفسیر ایک ایسا عظیم الشان علم ہے جسے حاصل کرنے والا اپنی استطاعت کے مطابق کلام الہی کو سمجھنے کا اعزاز حاصل کر لیتا ہے اسی لیے ہمیں بھی چاہیے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ تفسیر کا مطالعہ بھی کریں ۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ الخاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم ۔