محمد ثاقب رضا (درجۂ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
مطالعہ کا معنی:مطالعہ کا معنی غور اور توجہ سے کسی چیز
کو اس غرض سے دیکھنا کہ اس سے واقفیت پیدا ہو جائے جبکہ عام طور پر کتاب پڑھنے کو
مطالعہ کہا جاتا ہے ۔
علم انسان کی بنیادی ضرورت ہے جسے پورا کرنے کا اہم ترین
ذریعہ مطالعہ ہے ۔ یہ مطالعہ ہی کا انمول
ترین فائدہ ہے کہ اس سے انسان حصول علم کی طرف مائل ہوتا ہے، اپنی معلومات کو وسعت
دیتا ہے، ایک نئی فکر اور سوچ لیتا ہے، فکر و نظر کا زاویہ وسیع تر کرتا ہے، اپنی
ذات کو پہچانتا ہے، معاشرے میں بسنے والوں کو سمجھنے میں مدد پاتا ہے، اپنے اندر
اچھائی برائی کی پہچان پیدا کرتا ہے اور کائنات کے پوشیدہ راز دریافت کرتا ہے
۔ دنیا میں جتنے بھی بڑے علماء اور بزرگان
دین گزرے ہیں مطالعہ ان کی زندگی کا اہم اور لازمی جز تھا ۔
تفسیر قرآن
پاک کے مطالعہ کی اہمیت:قرآن کریم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کلام پاک ہے
۔ اسی تناسب سے اس سے متعلق علوم اہم اور
افضل خصوصاً علم تفسیر اجل العلوم ہے ۔
مطالعہ تفسیر
کی ضرورت:مطالعہ تفسیر کی ضرورت کتنی ہے یہ تو علم تفسیر کی اہمیت سے معلوم ہو ہی
جاتا ہے کیونکہ علم تفسیر تینوں جہتوں یعنی موضوع، غرض اور حاجت میں افضل و اعلیٰ
ہے ۔
ایاس بن
معاویہ کا قول:ایاس بن معاویہ نے کہا: ان لوگوں کی مثال جو قرآن پڑھتے ہیں اور اس کی
تفسیر نہیں جانتے اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس ان کے بادشاہ کی کتاب رات کو آئی ہو
اور ان کے پاس چراغ نہ ہو، انہیں خوف لاحق ہو اور وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ کتاب میں
کیا ہے ۔ اور اس شخص کی مثال جو تفسیر جانتا ہو اس شخص کی طرح ہے جو ان کے پاس
چراغ لایا ہو پھر انہوں نے وہ پڑھا جو کچھ کتاب میں تھا ۔
(الجامع
الاحکام، تفسیر قرطبی، جلد1، صفحہ26، باب ما جاء فی فضل تفسیر القرآن و اہلِہ)
قرآن پاک
کا ترجمہ اور تفسیر کی ضرورت:
بعض اوقات
ہم قرآن پاک پڑھتے ہیں اور ترجمہ بھی پڑھتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے قرآن بھی
پڑھا ہے، ترجمہ بھی پڑھا ہے، جو کچھ قرآن کہتا ہے ہم نے وہ اردو میں بھی پڑھا ہے،
ہمیں تو پتہ ہے سب کچھ ۔
قرآن پاک کی
تفسیر کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے اس قدر ضروری ہے کہ جس کو بیان کرنا ممکن نہیں
۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ تفسیر
کے مطالعہ کو اپنا معمول بنائے اور اپنی زندگی کو قرآن پاک میں بیان کردہ اللہ
تبارک و تعالیٰ کے احکام کے مطابق گزارے، کہ جو بندے کو دنیا میں بھی کامیابی کی
طرف لے کر جاتے ہیں اور آخرت میں بھی پیچھے نہیں چھوڑتے بلکہ آخرت میں بھی ہمارے یہی
دنیاوی اعمال ہی ہمیں اللہ کے حکم سے جنت کی طرف لے کر جائیں گے اگر یہ اعمال
ہمارے اچھے ہوئے تو ۔
قرآن پاک کی
تفسیر کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے دینی، اخلاقی اور
روحانی ضرورت ہے ۔ کیونکہ تفسیر ہی وہ علم ہے جو ہمیں قرآن پاک کے اصل مفہوم،
مقاصد اور احکام کو صحیح طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے ۔ بغیر تفسیر کے قرآن
پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے بغیر چراغ کے کتاب دیکھنا الفاظ تو نظر آتے ہیں مگر مطلب واضح نہیں ہوتا ۔ تفسیر کے ذریعے ہی ہمیں
قرآن کا حقیقی درس، عقائد کی درستگی، شریعت کی تفہیم اور زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ
معلوم ہوتا ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر کے مطالعہ کو
اپنی زندگی کا لازمی معمول بنائے، تاکہ اس کی سوچ، عمل اور کردار قرآن و سنت کے
مطابق ڈھل جائے، اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرے ۔
Dawateislami