محمد ارسلان سلیم عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
قرآن مجید
اللہ تعالیٰ کا وہ پاک کلام ہے جو انسان کی ہدایت، اصلاحِ کردار اور فلاحِ آخرت کے
لیے نازل ہوا ۔ مگر قرآن کے پیغام کو
سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے صرف تلاوت کافی نہیں، بلکہ اس کے معانی اور
مقاصد کو سمجھنا بھی ضروری ہے ۔ اسی فہمِ
قرآن کا ذریعہ "تفسیر" ہے ۔
(1)قرآن
فہمی کے لیے تفسیر کی ضرورت:قرآن کریم کے مضامین گہرے اور معانی وسیع ہیں
۔ ہر آیت میں کئی پہلو اور حکمتیں پوشیدہ
ہیں جنہیں عام قاری بغیر رہنمائی کے سمجھ نہیں سکتا ۔ تفسیر ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہر آیت کا مطلب،
مقصد اور شانِ نزول کیا ۔
(2)زبان
اور پس منظر کی وضاحت:قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا، اور اس کے کئی
الفاظ و محاورے عربی تہذیب سے متعلق ہیں ۔ تفسیر کے ذریعے ان الفاظ کے صحیح معانی، تاریخی پس منظر اور شانِ نزول کو
سمجھنا ممکن ہوتا ہے ۔ یہ چیز قرآن کے پیغام
کو زیادہ واضح اور مؤثر بناتی ہے ۔
(3) درست
عقیدہ و عمل کی رہنمائی:تفسیرِ قرآن انسان کو صحیح عقیدہ، درست عبادت اور
بہتر اخلاق کی تعلیم دیتی ہے ۔ مفسرین
قرآن کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ کن باتوں پر ایمان لانا، کن سے اجتناب کرنا، اور
کس طرح زندگی گزارنا چاہیے ۔ اس طرح
مطالعۂ تفسیر سے عمل میں درستگی پیدا ہوتی ہے ۔
(4) صحابہ
و تابعین کی روش:صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کے معانی کو سمجھنے کے لیے خود رسول اللہ ﷺ
سے سوال کرتے تھے ۔ تابعین اور بعد کے
مفسرین نے بھی قرآن کی تشریح ، وضاحت کو اپنا علمی فریضہ سمجھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تفسیر کا مطالعہ دین کا
بنیادی تقاضا ہے ۔
(5) روحانی
و اخلاقی تربیت:مطالعۂ تفسیر انسان کے دل کو منور کرتا ہے، اس میں خشیتِ الٰہی، صبر، شکر،
عدل اور نرمی جیسے اوصاف پیدا کرتا ہے ۔ تفسیر کے مطالعے سے انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور زندگی کے ہر مرحلے میں
قرآن اس کی رہنمائی کرتا ہے ۔
تفسیرِ
قرآن کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ ایمانی ضرورت ہے ۔ جو شخص قرآن کو سمجھ کر اس پر
عمل کرتا
ہے، وہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو ہوتا ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مستند مفسرین
کی تفاسیر کا مطالعہ کرے اور قرآن کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکیں ۔
Dawateislami