قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا وہ آخری اور مکمل پیغام ہے جو انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ۔  یہ کتاب زندگی کے ہر پہلو کو منور کرتی ہے اور انسان کو فلاحِ دارین کا راستہ دکھاتی ہے ۔ لیکن قرآن کا صحیح فہم اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب ہم اس کی تفسیر کا مطالعہ کریں، کیونکہ تفسیر قرآن کی تشریح، توضیح اور مقصدِ الٰہی کو سمجھنے کا ذریعہ ہے ۔

تفسیر کی ضرورت:قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا، اور اگرچہ عربی جاننے والے بھی اس کے ظاہری الفاظ سمجھ سکتے ہیں، لیکن آیات کے شانِ نزول، سیاق و سباق، لغوی معانی، فقہی نکات، اور عقیدتی اصول کو سمجھے بغیر صحیح مفہوم تک پہنچنا ممکن نہیں ۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر غورو فکر کرنے ارشاد فرمایا ہے:كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)

ترجمہ کنز العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔ (ص،29)

مزید ایک مقام پر ارشاد فرمایا:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) ترجمہ کنزالعرفان:تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟ بلکہ دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں ۔ (محمد:24)

مزید اس کی تفسیر کرتے ہوئے تفسیر صراط الجنان میں مفتی صاحب ارشاد فرماتے ہیں: کی جن کے دلوں  میں  نفاق کے قفل لگے ہیں  وہ نہ تو قرآنِ کریم میں  غوروفکر کر سکتے ہیں اورنہ ہی وہ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں  کیونکہ ان کے دلوں  پرتالے لگے ہوئے ہیں  جس کی وجہ سے حق کی بات ان میں  پہنچ ہی نہیں  پاتی ۔ تدبُّر قرآنِ پاک میں  گہرے غور و خوض کو کہتے ہیں  جو تعصبات اور جانبداری سے پاک اورعقل و نقل کے حقیقی تقاضو ں کے مطابق ہو ۔