قرآن کو
سمجھنے اور اس کے احکام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے علمِ تفسیر کی ضرورت پیش
آتی ہے ۔ تفسیر دراصل وہ علم ہے جو قرآن
کے الفاظ، معانی، احکام، اسبابِ نزول اور مرادِ الٰہی کو واضح کرتا ہے ۔ اگرچہ قرآن مجید خود نور ہے، لیکن اس کے اسرار
و معانی کو سمجھنے کے لیے مفسرینِ کرام نے اپنی زندگیاں صرف کیں ۔
تفسیر کی
ضرورت و اہمیت: قرآن پاک کی تفسیر کا مطالعہ بہت ساری وجوہات کی بناء پر اہم اور ضروری ہیں
جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔
(1) قرآن کے فہم کے لیے:قرآن کا اصل مقصد ہدایت
ہے، لیکن یہ ہدایت اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب انسان قرآن کے معانی اور مقاصد سے
واقف ہو ۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل
ہوا، اور عربی زبان اپنی فصاحت و بلاغت میں بے مثال ہے ۔ لہٰذا عام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ مفسرین
کی مدد سے قرآن کے مفاہیم کو سمجھیں ۔
( 2) احکامِ شریعت کو سمجھنے کے لیے:قرآن میں
عبادات، معاملات، اخلاق اور حدود کے احکام موجود ہیں ان کی وضاحت کے لیے تفسیر
ضروری ہے تاکہ احکام کی صحیح نوعیت، موقع و محل اور حکمت سمجھ میں آسکے ۔
(3) تحریف و غلط فہمی سے بچاؤ کے لیے:بغیر تفسیر
کے قرآن کو سمجھنے کی کوشش بعض اوقات غلط تعبیرات کا باعث بنتی ہے ۔ مفسرین نے قرآن کی تشریح قرآن و سنت کی روشنی میں
کی تاکہ امت گمراہی سے محفوظ رہے ۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی
عنہ نے فرمایا:جس نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے بات کی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں
بنالے ۔ (سنن ترمذی/كتاب تفسير القرآن عن
رسول الله ﷺ/حدیث: 2950)
(4)زندگی میں
عملی رہنمائی کے لیے:قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ عمل کا دستور ہے ۔ اس کے احکام کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے
اس کی صحیح تشریح ضروری ہے ۔
علامہ
محمود آلوسی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: تفسیر ہی وہ علم ہے جو لوگوں کے لیے مرادِ الٰہی
پر عمل کا دروازہ کھولتا ہے ۔ ( روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی،
جلد 1، صفحہ22)
قرآن کی
معنوی حفاظت تفسیر کے ذریعے ہوئی ۔ مفسرین
نے احادیث، اقوالِ صحابہ کرام علیھم الرضوان اور لغتِ عرب کے ذریعے قرآن کی مراد
کو واضح کر کے اس کی تعلیمات کو بگاڑ سے محفوظ رکھا ۔
(5) دینی
علوم کی بنیاد جاننے کے لیے:تمام دینی علوم (فقہ، عقیدہ، اخلاقیات) کی جڑ قرآن
ہے، اور ان علوم کی تفہیم تفسیر کے ذریعے ممکن ہے ۔
(6) روحانی و اخلاقی تزکیہ کرنے کے لیے:تفسیر محض
انسان کے ظاہر کو بہتر نہیں بناتا بلکہ
باطن کو بھی بہتر بناتا ہے اور اسکی روحانی
ترقی کا سبب بنتا ہے ۔ جب انسان قرآن کی
تفسیر کے ذریعے مرادِ الٰہی کو سمجھتا ہے تو اس کا دل منور ہوتا ہے، ایمان پختہ
ہوتا ہے، اور عمل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے ۔
(7) امت کی
فکری و علمی وحدت کے لیے:مفسرین کی محنت نے امت کو ایک منہج پر قائم رکھا
۔ اگر تفسیر نہ ہوتی تو قرآن کے معانی میں
اختلاف اور انتشار بڑھ جاتا ۔ اہلِ سنت
مفسرین نے قرآن کی تعبیر کو سنت اور اجماعِ امت کے اصولوں سے جوڑا، جس سے امت کی
فکری وحدت قائم رہی ۔
علمِ تفسیر
قرآن سمجھنے کی بنیاد ہے ۔ یہ وہ علم ہے
جس نے امت کو قرآن کی صحیح مراد سمجھنے، اس کے احکام پر عمل کرنے، اور فکری گمراہیوں
سے بچنے کی طاقت دی ۔ مفسرینِ اہلِ سنت نے
اپنی زندگیاں قرآن کے اسرار کھولنے میں گزاری ہیں ۔ لہٰذا قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ تفسیر کا مطالعہ
بھی ضروری ہے تاکہ ہم قرآن کے علمی خزانوں کو حاصل کر سکیں اور قرآن ہمارے لیے
بالفعل ہدایت بن جائے ۔
Dawateislami