قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کو  اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل فرمایا ۔  یہ کتاب زندگی کے ہر پہلو کے لیے کامل ہدایت ہے ۔ لیکن اس ہدایت سے حقیقی فائدہ تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب قرآن کریم کو صحیح معانی، شانِ نزول، احکام اور حکمتوں کے ساتھ سمجھا جائے ۔ مطالعہ تفسیر کے بغیر قرآن کے حقیقی پیغام تک پہنچنا ممکن نہیں ہے ۔

‎‎قرآن پاک میں تفسیر کا حکم: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ترجمہ کنز الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔

( اَلنِّسَآء :4، آیت 82)

‎‎ یہاں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے کہ اِس نے اپنی فصاحت سے تمام مخلوق کو اپنے مقابلے سے عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکروفریب کو کھول کر رکھ دیاہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں ۔ اگر قرآن میں غور کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کا کلام ہے اور اسے لانے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا رسول ہے ۔

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ قرآن کا مقصد صرف تلاوت نہیں بلکہ سمجھ کر پڑھنا تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔

اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے ۔ امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب التفکر، بیان مجاری الفکر، ۵ / ۱۷۰)‎‎

‎‎صحابۂ کرام کی قرآن سمجھنے کی کوشش:حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں:"کُنَّا نَتَعَلَّمُ العَشْرَ آيَاتٍ، فَلَا نَتَجَاوَزُهَا حَتّى نَعْلَمَ مَا فِيهِنَّ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ"ترجمہ:ہم دس آیات سیکھتے، ان کو سمجھتے، ان پر عمل کرتے، پھر اگلی آیات کی طرف جاتے ۔ (مسند احمد، حدیث 22971)

مطالعۂ تفسیر کی کتب :تفسیر ابن کثیر،تفسیر طبری،‎‎تفسیر قرطبی،‎‎تفسیر جلالین،‎‎معارف القرآن،‎‎ضیاء القرآن

‎‎مطالعہ تفسیر مقصد :مطالعہ تفسیر قرآن کریم کی صحیح فہم کا بنیادی ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو سمجھنے کا حکم دیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اسے سیکھنے اور سکھانے کی ترغیب دی ہے ۔ آج کے دور میں جب فتنوں کا طوفان ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ معتبر تفسیر کے ذریعے قرآن کو سمجھے، اس پر عمل کرے اور دوسروں تک صحیح پیغام پہنچائے ۔