محمد عمیر عطاری (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ گلزارحبیب سبزہ
زار لاہور، پاکستان)
قرآن حکیم
اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم کلام ہے جسے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ۔ یہ کتابِ مقدس قیامت تک آنے والے تمام انسانوں
کے لیے راہِ زندگی ہے ۔ تاہم قرآن کریم کے
گہرے مفہوم، حکمتوں اور عملی رہنمائی کو سمجھنے کے لیے محض ظاہری تلاوت کافی نہیں
ہوتی، بلکہ ضروری ہے کہ انسان قرآن کی تفسیر کا مطالعہ کرے ۔ تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کے مفاہیم، اسبابِ
نزول، احکام، اصولِ زندگی اور اللہ و رسول ﷺ کے مطلوب طریقے کو واضح کرتا ہے
۔ اسی لیے امت کے ہر دور میں علماء نے تفسیر
کو بنیادی اور ضروری علم قرار دیا ۔
قرآن پاک میں
مطالعۂ تفسیر (فہمِ قرآن) کی اہمیت:
(1)قرآن
سمجھ کر پڑھنے کا حکم:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَترجمہ کنز الایمان: تو
کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (سورۃ النساء: 82)
یہ آیت بتا
رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ قرآن کو سمجھے اور اس پر غور کرے، اور یہ
تدبر تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔
(2) قرآنی
احکامات کی تفصیل تفسیر سے معلوم ہوتی ہے:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ
ترجمۂ کنز
الایمان:کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا ۔ (سورۃ النحل: 44)
یہ آیت
ثابت کرتی ہے کہ قرآن کی وضاحت نبی ﷺ نے فرمائی، اور یہی وضاحت آگے چل کر تفاسیر میں
محفوظ ہوئی ۔
مطالعۂ
تفسیر کی چند بنیادی وجوہات
1، قرآن کے
اصل مقاصد اور احکام سمجھنے کے لیے ۔
2، غلط فہمیاں
اور خودساختہ معانی سے بچنے کے لیے ۔
3، قرآن کے
اسلوب، شانِ نزول اور حکمتوں کو جاننے کے لیے ۔
4، زندگی
کے مسائل میں قرآن کو عملی رہنما بنانے کے لیے ۔
5، نیکی،
عبادات، اخلاق اور معاملات کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے ۔ مطالعۂ تفسیر ہر مسلمان
کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ قرآن بغیر فہم کے وہ اثر نہیں دیتا جو اللہ نے اس
کے لیے مقدر کیا ہے ۔ تفسیر انسان کو قرآن
کے قریب کرتی ہے، اس کے دل میں نور پیدا کرتی ہے، اور زندگی کے ہر گوشے میں روشنی
بخشتی ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ
قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کی معتبر تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ ضرور کرے ۔
Dawateislami