وقار
حسین (درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
قرآن کریم
اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، بصیرت اور زندگی کا مکمل
دستور فراہم کرتی ہے ۔ مگر قرآن کے صحیح
مفہوم تک رسائی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے اُن معانی اور مقاصد کے ساتھ سمجھا
نہ جائے جو اللہ نے نازل فرمائے اور رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ۔ یہی مقصد مطالعۂ تفسیر ہے ۔ تفسیر قرآن کی وہ علمی خدمت ہے جس کے ذریعے آیاتِ
قرآن کے معانی، احکام اور حکمتیں واضح ہوتی ہیں ۔
(1)قرآن کو
سمجھنے کا اولین تقاضا:قرآن صرف تلاوت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھ کر
عمل کرنے کے لیے نازل ہوا ہے ۔ ارشادِ باری
تعالیٰ ہے: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا
اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنز الایمان: یہ
ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں ۔
یہاں سوچنے کا حکم فرمایا ہے اور غور و تدبر کا
راستہ تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔
(2)احکامِ
شریعت کے فہم کا ذریعہ:نماز، روزہ، زکوٰۃ، معاملات اور اخلاق ۔ قرآن ہر شعبے کا بنیادی ماخذ ہے ۔ ان احکام کی تفصیل اور فہم تفسیر کے ذریعے ہی
حاصل ہوتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا:
ألا إني أوتيت القرآن ومثله ترجمہ:یعنی مجھے قرآن کے ساتھ اس کی تشریح بھی عطا
کی گئی ۔
تشریحِ نبوی کو سمجھے بغیر قرآن کے احکام مکمل
طور پر سمجھ میں نہیں آتے ۔
(3)غلط فہمیوں
اور گمراہیوں سے حفاظت:ہر دور میں قرآن کے بارے میں غلط تعبیرات سامنے آتی
رہی ہیں ۔ تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ انسان
کو صحیح فہم عطا کرتا ہے اور من مانی تشریحات سے بچاتا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:من قال في القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار یعنی جو شخص قرآن کی
تفسیر اپنی رائے سے کرے، وہ آگ میں جگہ بنا لے ۔ (جامع الترمذی، جلد 2 ،صفحہ 589،حدیث 2901)
اس حدیث سے
صحیح تفسیر کی ضرورت واضح ہوتی ہے ۔
مطالعۂ
تفسیر قرآن فہم، فہم دین ، صحیح عقیدہ اور روشن عمل کا بنیادی ذریعہ ہے ۔ آج کے دور میں جہاں فکری انتشار عام ہے، تفسیر
کا باقاعدہ مطالعہ ہر مسلمان کی ضرورت بن چکا ہے ۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنا ہی حقیقی ہدایت کا راستہ
ہے، اور تفسیر اس راستے کی روشن مشعل ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کے نور کو اپنی
زندگیوں میں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبینﷺ ۔
Dawateislami