محمد
عزیر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
اللہ ربّ
العزت نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا جو دنیا و آخرت کی کامیابیوں
کا ضامن ہے قرآن ایک عظیم اور بلند کلام ہے، جس کے مفاہیم تک رسائی، اس کے احکام کی
صحیح مراد سمجھنے اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے تفسیر کی
ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے ۔
(1)تفسیر تعریف :قرآن مجید کے وہ احوال
بیان کرنا جو عقل سے معلوم نہ ہوسکیں ۔
اپنے عقل
سے تفسیر کرنا:قرآن مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنا حرام ہے(تفسیر صراطِ
الجنان جلد 1ص31)
(2)اللہ پر
افترا باندھنا:حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، عجمیوں کو اس بات نے ہلاک کر دیا
کہ ان میں سے کوئی قرآن مجید کی آیت پڑھتا ہے اور وہ اس کے معانی سے جاہل ہوتا ہے
تو وہ اپنی اس جہالت کی وجہ سے اللہ تعالی پر افتراء باندھنا شروع کر دیتا ہے
۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد 1ص 32)
(3)امت تفریق
کا شکار ہوگی:تفسیر میں ضروری ہے کہ دلیل کے بنیاد پر بات کی جائے، اگر صرف خواہش، ذاتی
مفاد، گروہی مقاصد اور فرقے کی حمایت میں، بغیر دلیل کے تفسیر کی جانے تھے تو امت
تفرقہ کا شکار ہو گی ۔ امام ابن تیمیہ میلہ
نے تفسیر کے بہترین طریقے ذکر کرنے کے بعد تفسیر سے متعلق مندرجہ ذیل بعض احکام
ذکر کئے ہیں ۔ ( فی اصول تفسیر جلد1ص103)
(4)بادشاہ
کا خط:حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃلله تعالی علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید
پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں کی طرح ہے جن کے
پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں
وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا
لکھا ہوا ہے ۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد
1ص35)
(5)تفسیر
کا علم رکھنے والے شخص کی مثال :وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے
اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی
روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تفسیر صراطِ الجنان جلد 1ص36)
Dawateislami