مبشر عبد الرزاق عطاری (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
قرآن کریم
تمام جہانوں کی حقیقی رب کا نازل کردہ کلام ہے جسے اس نے مبارک ہستی نبی اخر
الزماں محمد مصطفی ﷺ پر نازل فرمایا یہ کثیر خیر، کثیر نفع، اور کثیر
برکت والا ہے اور رشد و ہدایت کا ایسا سرچشمہ ہے جس کی تعلیمات کو سمجھنے اور اس میں
بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے میں اللہ و رسول کی رضا، عظیم ثواب اور دنیا
و آخرت میں کامیابی کا معیار ہے یاد رہے قرآن پاک کتاب ہدایت ہے لیکن ہدایت اسی
وقت نصیب ہوگی جب اس سے ہدایت لینے کے اسی طریقے کو اختیار کیا جائے جو اسلاف امت
سے رائج ہے یعنی قرآن کو پہلے خود قرآن سے سمجھا جائے جس کو"تفسیر قرآن
بالقرآن "کہتے ہیں یا پھر قرآن کو حدیث کے ذریعے سمجھا جائے جس کو" تفسیر
قرآن بالحدیث"سے تعبیر کیا جاتا ہے یا پھر قرآن کی تشریح صحابہ و تابعین کرام کے اقوال و آثار سے لی جائے گی جس
کو"تفسیر قرآن بآثار الصحابہ و تابعین"کہتے ہیں اور اگر کسی مسئلے کا حل
ان تینوں میں نہ ملے تو پھر تفسیر بالدرایہ (یعنی مستند علماء فقہاء کی بیان کردہ
تفسیر) کی طرف جایا جائے گا اسی لیے قرآن پاک کی تفسیر پڑھنا بہت اہمیت و
ضرورت کی حامل ہے،چنانچہ تفسیر قرآن کی ضرورت و اہمیت پر چند باتیں گوشے گزار ہیں ۔
(1) جس سے
حساب لیا گیا وہ عذاب دیا گیا : امام جلال
الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: جس زمانے میں قرآن مجید عربی زبان میں
نازل ہوا اس وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے وہ اس کے ظاہر اور اس
کے احکام کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر غور و فکر کرنے اور نبی کریم ﷺ سے
سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھی جیسے کہ بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب
دیا گیا ،، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ
اللہ پاک نے یہ نہیں ارشاد فرمایا فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸)ترجمہ کنز الایمان: اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا ۔ (پ30 انشقاق 8)
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا:یہ تو صرف اعمال کا پیش ہونا ہے لیکن جس سے اعمال کے حساب کے معاملے
میں جرح کی گئی تو وہ عذاب میں گرفتار ہو جائے گا اس روایت کو نقل کرنے کے بعد
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں تو جب میدان فصاحت و بلاغت کے شاہ
سواروں کو قرآن کے معنی سمجھنے کے لیے الفاظ قرآن کی تفسیر کی حاجت ہوئی تو ہم تو
اس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جن کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس
چیز کے محتاج ہیں کیونکہ ہمیں بغیر سیکھے لوگوں کے اسرار و رموز اور اس کے مراتب
معلوم نہیں ہو سکتے (بخاری شریف55/1 حدیث حدیث 103)
(2)سیاہ و
سفید دھاگہ : قرآن مجید علم و حکمت کا سمندر اور علوم و معارف کا عظیم شاہکار ہے یہی وجہ
ہے کہ صحابہ کرام فصاحت و بلاغت کے ماہر اور مادری زبان عربی ہونے کے باوجود قرآن
سمجھنے کے لیے بار گاہ رسالت میں حاضر ہوتے تھے کیونکہ وہ بھی قرآن کی بہت سی باتیں
از خود نہیں سمجھ پاتے تو پیارے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کرتے تھے
۔ چنانچہ جب سورہ بقرۃکی آیت نمبر 187 وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ
لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرترجمہ کنز
الایمان:" اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا
سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر"نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا
گیا ہے تو صحابی رسول حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے
کالی اور سفید رسی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید رسی کالی سے
جدا ہو جائے گی! ظاہر ہے قرآنی آیت کی یہ
مراد نہیں تھی جو انہوں نے سمجھی اور رسیاں جدا نہ ہو ئیں ، وہ صبح رسول اللہ صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی صورت حال بیان کی تو آپ نے
ارشاد فرمایا: یہاں خَیْطُ الْاَبْیَضُیعنی سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اور خَیْطِ الْاَسْوَدِ یعنی کالے
ڈورے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (بخاری شریف
1 ص 132 حدیث 1916)
یقیناً
صحابہ کرام فہم و فراست اور عقل و دانائی میں ہم سے بہت بڑھ کر تھے جب ان حضرات کو
قرآن سمجھنے کے لیے تفسیر قرآن کی ضرورت تھی تو ہم ان سے کئی گنا زیادہ تفسیر قرآن
کے محتاج ہیں ۔
(3)مخزن
علم: قرآن پاک علم حقیقی کا خزانہ ہے ، اس میں بیان
کی گئی باتیں اپنے اصل مفہوم کی سچائی کے ساتھ ساتھ کئی علوم کو اپنے دامن میں لی
ہوئی ہیں اس لئے قرآن پاک میں غور و فکر کرنا اور اس کی تفسیر پڑھنا بہت ضروری
ہے ۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو علم حاصل
کرنے کی خواہش رکھتا ہو اسے چاہیے قرآن میں خوب غور و خوض کرے کیونکہ قرآن میں
اگلوں اور پچھلوں کا علم موجود ہے ۔ ( شعب الایمان ،ج2 ص 332 حدیث 1960)
(4) بڑی عبادت و سعادت : قرآن فہمی بہت بڑی
عبادت و سعادت ہے، لہذا تلاوت قرآن کے
ساتھ مستند تفاسیر کے ذریعے معانی قرآن بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال اُن لوگوں
کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں
جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ
اس خط میں کیا لکھا ہے ؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس
کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی
سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ ( تفسیر قرطبی ج1 ص 41)
(5)صحابہ
کرام کی سنت : قرآن پاک کی آیات میں غور و فکر کرنا اور ان کی تفسیر پڑھنا یہ صحابہ کرام
علیہم الرضوان کا مبارک طریقہ ہے جس پر عمل دنیاو آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے
چنانچہ مشہور تابعی حضرت عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ میں سے جو حضرات ہمیں قرآن
عظیم کی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے ہمیں
بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے دس آیتیں سیکھتے اور اس وقت تک ان سے آگے نہیں
بڑھتے تھے جب تک ان آیات کی تمام علمی اور عملی باتوں کا علم حاصل نہ کر لیں
۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ج15 ص 436حدیث
30549)
پیارے
اسلامی بھائیو! قرآن مجید ایک عظیم الشان کتاب ہے جو امت مسلمہ کی عظمت، ناموری
اور کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہے، لیکن یہ ناموری اور عظمت اسی صورت حاصل ہو سکتی
ہے جب اس کے احکامات اور تعلیمات کو سمجھ کر عمل کیا جائے مگر افسوس فی زمانہ
مسلمانوں کی ایک تعداد کو قرآن پاک کے دیے ہوئے احکامات اور اس کی روشن تعلیمات کی
خبر تک نہیں اے کاش ہم بھی قرآن پاک کی مستند تفاسیر کا مطالعہ کر کے اس کے
احکامات اور تعلیمات کو سمجھ کر اس پر عمل کے خوگر بن جائیں اللہ پاک ہمیں قرآن
پاک کے احکامات اور تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
Dawateislami