قرآن مجید کو سمجھنے ، اس کی تعلیمات کو جاننے اور اس میں بیان کردہ ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے پر دنیا و آخرت میں کامیابی کا دار و مدار ہے جو اللہ پاک کی توفیق سے ہی ممکن ہے، یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص قرآن سمجھنے کے لیے عربی سیکھ لے ، علوم عربیہ کا ماہر ہو جائے اور قرآن سمجھنے کا دعویٰ کرنے لگے بلکہ یہ چیزیں اس کے لیے بنیادی علوم کا کام دینے والی ہیں  اصل علم ، ہدایت اور عقل و دانائی جس کا مخزن قرآن ہے اور یہ علم صرف اور صرف توفیق الہی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام فصاحت و بلاغت کے ماہر اور مادری زبان عربی ہونے کے باوجود قرآن سمجھنے کے لیے بار گاہ رسالت میں حاضر ہوتے تھے کیونکہ وہ بھی قرآن کی بہت سی باتیں از خود نہیں سمجھ پاتےتو پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کرتے تھے ۔

چنانچہ جب سورہ بقرہ کی آیت نمبر 187 وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ترجمہ کنز الایمان: "اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر" ۔ نازل ہوئی جس میں سحری کا اختتامی وقت بیان فرمایا گیا ہے تو صحابی رسول حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کالی اور سفید رسی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی اور خیال کیا کہ یہ سفید رسی کالی سے جدا ہو جائے گی! ظاہر ہے قرآنی آیت کی یہ مراد نہیں تھی جو انہوں نے سمجھی اور رسیاں جدا نہ ہو ئیں ، وہ صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رات کی صورت حال بیان کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہاں خَیْطُ الْاَبْیَضُ یعنی سفید ڈورے سے دن کی سفیدی اور خَیْطِ الْاَسْوَدِ یعنی کالے ڈورے سے رات کی سیاہی مراد ہے ۔ (بخاری جلد 1 ص 632،حدیث ،1916،دار الکتب العلمیہ)

مطالعہ تفسیر کہ ضرورت کے لیے پانچ نکات ملاحظہ فرمائیں ۔

بغیر تفسیر کے قرآن پڑھنے کی مثال بزرگان دین نے یوں دی ہے ۔ حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ اس کی تفسیر نہیں جانتے ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے! اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتا ہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ خط میں کیا لکھا ہے ۔ (تاریخ حدیث و تفسیر ص،29 مکتبۃ المدینہ)

(2)بغیر تفسیر کے قرآن پڑھنا کبھی گمراہیت کا موجب بھی ہو سکتا ہے ۔ چناں چہ مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ کا سوال جواب پر مکالمہ ملاحظہ فرمائیں ۔ قرآن سے لوگ گمراہ کیوں ہو جاتے ہیں، وہ ہادی ہے ہادی سے گرا ہی کیسی ؟ج : ایک ہی ہارمونیم کا ایک پردہ دباؤ تو موٹی اور بھاری آواز نکلتی ہے ۔ دوسرا دباؤ تو سریلی اور باریک آواز دیتا ہے ۔ حالانکہ ہوا ایک ہی جاتی ہے ۔ انسان کے قلب و دماغ میں رحمانی پر دے بھی میں شیطانی بھی اگر شیطانی پر دہ غالب ہے تو قرآنی ہوا سے کفر کی آواز نکالتا ہے اگر رحمانی پردہ غالب ہے، تو اس قرآنی ہوا سے ایمان بولتا ہے ۔ یہ قرآن کا قصور نہیں ۔ اپنے پردہ کا قصور ہے ۔ بارش سے کہیں لالہ اگتا ہے کہیں خار ۔ (اسرار الاحکام ،ص 71 ،مکتبہ اسلامیہ )

(3)تفسیر کے ذریعے ہی بندہ قرآن کے صحیح مطالب تک پہنچ سکتا کہ قرآن مخزن علم ہے ۔ اور اس میں اپنی اٹکل پچو سے غوطہ سبب ہلاکت بھی ہو سکتا ہے ۔

(4)ماضی کی تاریخ گواہ ہے جس نے بھی بغیر تفسیرِ کے قرآن اپنی رائے سے بیان کیا اور حدیث کو خاطر میں نہ لا کر عقل کو قرآن فہمی کا مدار قرار دیا وہ گمراہ ہوا ۔

(5)مطالعہ تفسیر کی اہمیت سے آگاہ ہو جانے کے بعد یہ جاننا بھی از حد ضروری ہے کہ تفسیر فقط علماء اہلسنت کی پڑھی جائیں اسی اہمیت کے پیش نظر امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے ہمیں ایک خاص دینی کام تفسیر صراط الجنان روز تین آیات مع ترجمہ کا دینی کام عطا فرمایا ہے ۔ (بارہ دینی کام ،ص49 ،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں قرآن سمجھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔