قرآن کریم وہ آسمانی کتاب ہے جو انسانیت کے لیےہدایت رحمت اور نورِ بصیرت ہےاس کے فہم و تفسیرکامطالعہ دلوں کو منور کرتا اور بندے کو قربِ الٰہی کے رازوں سے آشنا کرتا ہےصحابہ کرام تلاوت کے ساتھ ہر آیت پر رک کر اس کے معنی و مقصد پر غور کرتے تھے یہی ان کے ایمان کی پختگی کا راز تھاائمہ و مفسرین نے فرمایا کہ جو شخص قرآن کی تفسیر پڑھے بغیر دین سمجھنے کا دعویٰ کرے وہ دراصل ہدایت کے دروازے سے دور ہےمطالعۂ تفسیر صرف علم نہیں بلکہ عبادت ہےجو انسان کے ظاہر و باطن کو نُورِ ایمان سے منور کر دیتا ہے ۔

(1) قرآن پر غور و فکر کی فضیلت:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین عبادت یہ ہے کہ انسان قرآن کو غور و فکر کے ساتھ پڑھے کیونکہ تدبر و تفسیر سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور دلوں میں معرفتِ الٰہی کی روشنی پیدا ہوتی ہےجو شخص بغیر سمجھ کے قرآن پڑھے وہ صرف زبان ہلاتا ہے مگر روحانی فیض سے محروم رہتا ہے ۔ (الدر المنثور، جلد 1، صفحہ 22، حدیث نمبر 43، باب: فضلِ تلاوتِ قرآن، فصل: فی التدبر والتفک)

(2)قرآن پر غور کیے بغیر پڑھنے والے کی مذمت:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن خود ان پر لعنت کرتا ہے وہ تلاوت تو کرتے ہیں لیکن قرآن کے معانی اور مقاصد پر غور نہیں کرتےجو شخص قرآن کو صرف تلاوت کے طور پر پڑھے مگر سمجھنے کی کوشش نہ کرے اس کی تلاوت اس کے خلاف حجت بنے گی ۔ (کنز العمال، جلد 2، صفحہ 524، حدیث نمبر 24294، باب: فضلُ القرآن، فصل: فی قراءتہ بترتیل وفہم)

(3) قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی تاکید:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تین دن سے کم وقت میں قرآن ختم کرے وہ قرآن کو سمجھ نہیں سکتاکیونکہ قرآن غور و تدبر کے لیے نازل ہوا ہے جو شخص ٹھہر ٹھہر کر معنی کے ساتھ قرآن پڑھےوہی اس کے حقیقی فیض کو حاصل کرتا ہے ۔ (سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 298، حدیث نمبر 1394، باب: فی کم یقرأ القرآن، فصل: فی التدبر والتفکر)

(4)مومن قرآن میں غور و فکر کرتا ہے:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مومن جب قرآن پڑھتا ہے تو اس میں غور و فکر کرتا ہےاس کی آیتوں سے نصیحت حاصل کرتا ہےاس کے نور سے ہدایت لیتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہےجو شخص تلاوت کے وقت دل و دماغ حاضر رکھےوہی سچا قاری ہے ۔ (شعب الایمان، جلد 2، صفحہ 364، حدیث نمبر 1974، باب: فی تلاوة القرآن، فصل: فی التدبر والتفکر)

(5)قرآن کے معنی میں تدبر نہ کرنے والا غافل ہے:رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو قرآن پڑھے مگر اس کے معنی و مفہوم پر غور نہ کرےوہ اس اندھے کی طرح ہے جو روشنی میں بھی کچھ نہیں دیکھتاقرآن ہدایت کی کتاب ہے اور جو شخص اس کی آیات میں تدبر نہیں کرتا وہ ہدآیت سے محروم رہتا ہے ۔ (تفسیر روح البیان، جلد 1، صفحہ 43، باب: تفسیر سورۃ البقرہ، فصل: فی الحث علی تدبر القرآن)

مطالعۂ تفسیر انسان کو قرآن کریم کے حقیقی مفہوم مقاصدِ الٰہی اور انبیاء کی تعلیمات سے روشناس کراتا ہےیہ

دل و دماغ کو نورِ ایمان سے منور کر کے عملِ صالح کی راہ دکھاتا ہےیوں تفسیر کا مطالعہ محض علم نہیں بلکہ بندگی معرفت اور رضائے الٰہی کا ذریعہ بنتا ہے ۔