محمد اکمل (درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قرآن کریم میں روز قیامت کے خوف و غم سے نجات کےبارے میں کئی
اعمال کا تذکرہ ملتا ہے ، ان میں سے چند ملاحظہ کیجیے۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ
اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ
كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر)
ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور
اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (پ24، حٰمٓ السجدۃ: 30)
قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ
پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے
نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ1 ، البقرۃ:38)
اس آیت میں بھی اللہ پاک نے ہدایت
کی اتباع کرنے والوں کو خوف وغم سے امن کی بشارت عطا فرمائی ہے ۔
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ
سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور
اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر
نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)
اس آیت میں اللہ پاک نے صدقہ و
خیرات کرنے والوں کو بھی خوف و غم سے امن کی خوشخبری عطا فرمائی
فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ وَیَسْتَبْشِرُوْنَ
بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰) ترجمۂ کنز الایمان: شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا
اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ
ہے اور نہ کچھ غم۔(پ4، آل عمران: 170)
قارئین کرام! آج کے اس پر فتن
دور میں ایمان کی حفاظت ایک مشکل عمل ہے۔ لیکن جتنا بھی مشکل ہو ایمان کی حفاظت کے
بغیر کوئی چارہ بھی نہیں کہ انسان کی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی اسی وصف سے ہی
ممکن ہے اوپر جو ہم نے آیتیں تحریر کی ان کے مجموعہ سے چند ایسے اوصاف ملتے ہیں کہ
جن پر عمل کرنے سے ایمان کی سلامتی نصیب ہوگی اور قیامت کے دن خوف و غم سے نجات
ملے گی۔
(1) ایمان پر استقامت اختیار
کرنا
(2) اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ
ہدایت کی پیروی کرنا
(3) راہ خدا میں اپنا مال خرچ
کرنا
(4) جو کچھ اللہ پاک نے عطا فرمایا
اس پر خوش رہنا
جب ہم ان اوصاف کو اپنائیں گے
ان شاءاللہ الکریم ہمیں ایمان کی سلامتی اور خوف و غم سے امن نصیب ہوگا ، اللہ پاک
ہم کو ایمان پر استقامت عطا فرمائے اور سلب ایمان سے محفوظ فرمائے۔ آمین
Dawateislami