پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان پیدا فرمایا اور رسول پاکﷺ کے عاشقوں میں شامل فرمایا۔ یقیناً یہ ہمارے لئے سعادت دارین میں سے ہوگا کہ ہم اللہ پاک کے ان بندوں میں سے بن جائیں جن کو اللہ پاک نے خوف اور غم سے امن کی خوشخبری دی اور ان بندگان خدا کی پیروی کریں جن کے متعلق اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں سورۃ الاعراف کی آیت 35 میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵) ترجمہ کنز العرفان: اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں سے وہ رسول تشریف لائیں جو تمہارے سامنے میری آیتوں کی تلاوت کریں تو جو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ8، الاعراف:35)

اور اسی طرح دینی دوستی اور اللہ پاک کیلئے محبت رکھنے والوں کی تعظیم کے لیے روز محشر کہا جائے گا جس کا ذکر اللہ پاک سُورۃ الزخرف کی آیت 68 تا 70 میں یوں فرماتا ہے: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (ان سے فرمایا جائے گا) اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے۔ تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجائیں اور تمہیں خوش کیا جائے گا۔(پ25، الزخرف:68تا70)

اہل ایمان میں سے نیک لوگوں کے لیے ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ: 277)

توحید ورسالت پر ایمان لانے اور اس پر ثابت رہنے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)

یہاں تک کہ اللہ پاک کی راہ میں اپنی اموال خرچ کرنے والوں کے بارے میں سورۃ البقرہ کی آیت 274 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)

غم و خوف سے نجات و امن کی بات ہوتو اللہ پاک اپنے اولیا کے بارے میں سورۃ یونس آیت 62 میں فرماتا ہے:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)

وہ لوگ جو ایمان لاکر اللہ پاک کے رب ہونے کا اقرار کرتے ہوئے ثابت قدم رہے ان کے بارے میں سورۃ حٰم السجدۃ کی آیت 30 میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (پ24، حٰمٓ السجدۃ: 30)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کو قیامت کے خوف و غم سے امن اور نجات کے بارے میں بہت واضح طور پر بیان فرمایا کہ اللہ پر ایمان لاؤ اسکے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نیک عمل کرو ایمان کے ساتھ اور راہ خدا میں خرچ کرو تو تمہارے لئے خوف و غم سے امن ہے نجات ہے۔ ہم قرآن مجید میں غور وفکر کریں اور صحیح العقیدہ علمائے کرام سے رہنمائی لیں تو تو یقیناً ہمارے لئے رب نے قیامت کے خوف و غم سے نجات کے بہت سے طریقے بتائے ہیں مگر افسوس ہم میں اکثر لوگ غفلت و لاپرواہی اور دین سے دوری کے سبب گناہوں کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں ایمان پر ثابت قدمی عطا فرمائے اور قیامت کے خوف و غم سے امن عطا فرمائے۔ آمین