خوف و غم سے امن کے متعلق قرآنی
آیات پڑھیے:
یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ
عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ
اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰) ترجمہ کنزالایمان: ان سے فرمایا
جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان
لائے اور مسلمان تھے داخل ہو جنت میں تم اور تمہاری بیویاں تمہاری خاطریں ہوتیں۔(پ25،
الزخرف:68تا70)
تفسیر: اس آیت اور اس کے بعد
والی دو آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی دوستی اور اللہ تعالی کی خاطر محبت رکھنے
والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے فرمایا جائے گا : اے میرے بندو
آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے اور میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر
ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری مومنہ بیویاں
جنت میں داخل ہو جائیں اور جنت میں تمہارا اکرام ہوگا نعمتیں دی جائیں گی اور ایسے
خوش کیے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہوں گے ۔
حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں
حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن منادی اعلان فرمائے گا: یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ
اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸) تو تمام لوگ اپنے سروں کو اٹھا لیں گے اور کہیں گے ہم اللہ کے بندے ہیں
پھر دوسری بار منادی فرمائے گا: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) تو تمام کفار اپنے سروں کو جھکا
لیں گے جبکہ اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے اپنے سر اٹھائے رکھیں گے
پھر تیسری بار منادی فرمائے گا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) کبیرہ گناہ کرنے والے اپنے سروں کو جھکا لیں گے جبکہ متقی
لوگ اسی طرح اپنے سر اٹھائے رکھیں گے اللہ تعالی اپنے وعدے کے مطابق ان سے خوف اور
غم دور کر دے گا کیونکہ وہ اکرم الاکرمین ہے وہ اپنے اولیاء کو شرمندہ نہیں ہونے
دے گا۔ (صراط الجنان)
آیت مبارکہ:
اِنَّ
الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ(۵۱) فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ(۵۲)
یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ(۵۳) كَذٰلِكَ- وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ(۵۴) یَدْعُوْنَ فِیْهَا
بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ(۵۵) لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا
الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰىۚ-وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ(۵۶) فَضْلًا مِّنْ
رَّبِّكَؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۵۷)ترجمہ کنزالایمان: بے شک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں باغوں اور
چشموں میں پہنیں گے کریب اور قنادیز آمنے سامنے یونہی ہے اور ہم نے انہیں بیاہ دیا
نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والیوں سے اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے امن و
امان سے اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب
سے بچا لیا تمہارے رب کے فضل سے یہی بڑی کامیابی ہے۔(پ25، الدخان:51تا57)
تفسیر: بے شک کفر اور گناہ کرنے
میں اللہ تعالی سے ڈرنے والے ایسی جگہ میں ہوں گے جہاں انہیں آفات سے امن نصیب
ہوگا اور انہیں اس امن والی جگہ کے چھوٹ جانے کا کوئی خوف نہ ہوگا بلکہ یقین ہوگا
کہ وہ وہیں رہیں گے وہ اس جگہ ہوں گے جہاں باغ اور بہنے والے چشمے ہوں گے وہاں وہ
باریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں گے اور وہ اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کے آمنے
سامنے اس طرح ہوں گے کہ کسی کی پشت کسی کی طرف نہ ہوگی جنتی اسی طرح ہمیشہ دل پسند
نعمتوں میں رہیں گے اور نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والی خوبصورت عورتوں سے ہم
ان کی شادی کریں گے وہ جنت میں اس طرح بے خوف ہو کر اپنے جنتی خادموں کو میوے حاضر
کرنے کا حکم دیں گے کہ انہیں کسی قسم کا اندیشہ ہی نہ ہوگا ، نہ میوے کم ہونے کا ،
نہ ختم ہو جانے کا ، نہ نقصان پہنچانے گا نہ اور کوئی اندیشہ ہوگا۔ (تفسیر صراط
الجنان، جلد9)
اللہ پاک ہمیں قرآن کریم پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami