اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت ہے، جنہوں نے اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا اور اپنی ذات کو اللہ تعالی کے سامنے جھکا دیا، یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں اور یہی لوگ بارگاہ الہی میں سرخرو ہوں گے۔ قیامت کے دن جب لوگ خوف و غم کی کیفیت میں ادھر ادھر بھٹک رہے ہوں گے تو یہ لوگ نہ ہی خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی یہ لوگ غمگین ہوں گے قرآن کریم میں متعدد آیات ایسی ہیں جس کے اندر یہ بیان کیا گیا ہے کہ کون لوگ قیامت کے دن خوف و غم سے امن میں ہوں گے اسی سے متعلق چند آیات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:

بذریعہ اقرار توحید، خوف و غم سے امن میں ہونا : اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمۂ کنز العرفان بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اللہ کی توحید پر اور سید المرسلین ﷺ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے تو قیامت کے دن نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں اور ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ۔(روح البیان، سورة الاحقاف، جلد نمبر 8 ، صفحہ نمبر 472)

بذریعہ انفاق فی سبیل اللہ، خوف و غم سے امن میں ہونا: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ: 274)

اس آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جو ہر حال میں یعنی دن اور رات میں خفیہ یا اعلانیہ خرچ کرتے ہیں آیت کریمہ میں رات کے خرچ کو دن کے خرچ سے اور خفیہ خرچ کو اعلانیہ خرچ سے پہلے بیان فرمایا اس میں اشارہ ہے کہ چھپا کر دینا ظاہر کر کے دینے سے افضل ہے ان سب خرچ کرنے والوں کے لیے بارگاہ الہی سے اجر و ثواب اور قیامت کے دن خوف و غم سے نجات کی بشارت ہے ۔

بذریعہ نیک لوگوں سے محبت، خوف و غم سے امن میں ہونا : اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷) یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ(۶۸)اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ(۶۹) اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(۷۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔ (ان سے فرمایا جائے گا) اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے۔ تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجائیں اور تمہیں خوش کیا جائے گا۔(پ25، الزخرف:67تا70)

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ دینی دوستی اور اللہ تعالی کی خاطر محبت رکھنے والوں کی تعظیم اور ان کے دل خوش کرنے کے لیے ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف اور نہ تم غمگین ہو گے اور میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم اور تمہاری مومنہ بیویاں جنت میں داخل ہو جائیں اور جنت میں تمہارا اکرام ہوگا ،نعمتیں دی جائیں گی اور ایسے خوش کیے جاؤ گے کہ تمہارے چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہوں گے۔(ابو سعود، سورت الزخرف جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 550، دارالکفر بیروت)

جو لوگ اللہ تعالی کے احکامات پر عمل پیرا ہوں گے اور شریعت محمدی کے تابع ہوں گے یقینا وہی لوگ قیامت کے دن خوف و غم سے امن میں ہوں گے۔ اللہ تعالی ہمیں بھی بروز قیامت خوف و غم سے امن نصیب فرمائے۔ آمین