پیارے اسلامی بھائیو! قیامت کا دن بڑی ہولناکیوں کا دن ہے اس دن نفسی نفسی کا عالم ہوگا ہر کوئی صرف اسی فکر میں ہوگا کہ بس کسی طرح وہ جنت میں داخل ہو جائے۔ حالت یہ ہوگی کہ بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے دور بھاگے گا۔ اس قدر خوف طاری ہوگا لیکن انہی میں بعض خوش نصیب وہ لوگ ہوں گے جن کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنز العرفان: انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)

انہی خوش نصیبوں میں سے بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت کے دن بھی بے خوف اور اللہ کی طرف سے امن میں ہوں گے۔

( 1) ہدایت الٰہی کے پیروکار : اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا : قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان:ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)

اس آیت مبارکہ میں بتایا گیا کہ جو لوگ ہدایت الہی کی پیروی کریں گے اور اللہ کے فرامین کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں گے تو ان کے لیے بشارت ہے کہ انہیں نہ تو قیامت کی بڑی گھبراہٹ کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ بغیر غم جنت میں داخل ہوں گے۔ ( صراط الجنان، جلد: 1، صفحہ: 109 ملخصاً)

( 2) بغیر احسان جتلائے صدقہ کرنے والے : اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ :262)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بغیر احسان جتلائے اور بغیر تکلیف دئیے جو صدقہ کیا جائے تو اس کے سبب قیامت کے دن خوف سے امن نصیب ہوگا۔

یاد رکھیں! صدقہ دینے کے بعداحسان جتلانا اور جسے صدقہ دیا اسے تکلیف دینا ناجائز و ممنوع ہے اور اس سے صدقے کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے۔ احسان جتلانا تو یہ ہے کہ دینے کے بعد دوسرے کے سامنے اظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور یوں اس کا دل میلا کریں اور تکلیف دینا یہ ہے کہ اس کو عار دلائیں کہ تونادار تھا، مفلِس تھا، مجبور تھا، نکما تھا ہم نے تیری خبر گیری کی یا اور طرح اُس پر دباؤ ڈالیں۔ ( صراط الجنان، جلد: 1، صفحہ: 397)

( 3) اللہ کے اولیاء : اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)

قیامت کے دن ان ( اولیاء اللہ ) پرنہ کوئی خوف ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ پاک نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔ (صراط الجنان، جلد: 4، صفحہ: 345)

پیارے اسلامی بھائیو! اللہ کے ولیوں کی شان بہت بلند ہے کیونکہ اللہ کا ولی وہ ہوتا ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ پاک کا قرب حاصل کرے اور اللہ پاک کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل ہر وقت اللہ پاک کی یاد میں ہو ، یہ صفت اَولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔ ( صراط الجنان، جلد: 4، صفحہ: 344 ملخصاً)

اللہ تعالی ہم تمام کو قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور ہم تمام کو ان افراد میں شامل فرمائے کہ جو قیامت کے دن بھی خوف سے امن میں ہوں گے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔