محمد شفیق قادری عطاری (درجہ جامعۃ المدينہ
فيضان عثمان غنى کراچی ،پاکستان)
دنیا کی زندگی ایک آزمائش ہے
اور اہلِ ایمان کی ہمیشہ یہی خواہش رہتی ہے کہ ان کا ایمان سلامت رہے، اور وہ قیامت
کی ہولناکیوں، پل صراط کی دشواریوں، اور حساب و کتاب کی سختیوں سے بچ جائیں۔ قرآنِ
حکیم ایسے خوش نصیب اہلِ ایمان کا ذکر کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خوف و غم سے
آزادی کی بشارت دی ہے جیسا کہ آیات قرآن میں موجود ہے:
(1) استقامت والوں کے لیے امن: اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴)
ترجمۂ کنز العرفان بیشک جنہوں نے
کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ
جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔ (پ26،
الاحقاف:13، 14)
تفسیرِ کبیر میں ہے: بیشک وہ
لوگ جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے ،پھر وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور سیّد المرسَلین
ﷺ کی شریعت پر آخری دم تک ثابت قدم رہے، توقیامت میں نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ
موت کے وقت غمگین ہوں گے اور ان اوصاف کے حامل افراد جنت والے ہیں اور یہ ہمیشہ
جنت میں رہیں گے اور انہیں ان کے نیک اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔( تفسیرکبیر ،
الاحقاف ، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴ ، ۱۰ /
۱۳-۱۴ )
(2) اللہ کے ولیوں پر نہ خوف ہے
نہ غم: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
تفسیر صراط الجنان میں ہے: بعض
عارفین نے فرمایا کہ ولایت قربِ الٰہی اور ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ مشغول
رہنے کا نام ہے،جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف نہیں
رہتااور نہ کسی شے کے فوت ہونے کا غم ہوتا ہے۔ (صراط الجنان ، یونس، تحت الآیت
62-63)
(3) ایمان کے ساتھ ظلم نہ ہو: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ
بِظُلْمٍ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠(۸۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کو نہ
ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ7،
الانعام: 82)
اس آیت میں ایمان سے مراد ہے
اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ماننا اور ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توصحابۂ
کرام رضی اللہ عنہم بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی
’’ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا:’’اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے وہ بات نہیں سنی
جو حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہی
کہ ’’ اے میرے بیٹے !اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم
ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: ۳۴۲۹)
قرآن کریم کی مذکورہ و دیگر آیات ہمیں اس حقیقت
سے آگاہ کرتی ہیں کہ حقیقی امن و سکون صرف ایمان، استقامت، تقویٰ اور شرک سے
اجتناب میں پوشیدہ ہے۔ وہ بندے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان کر اس پر ثابت قدم
رہتے ہیں، جن کی زندگی تقویٰ سے مزین اور شرک سے پاک ہوتی ہے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ
نے یہ ابدی بشارت سنائی ہے کہ نہ دنیا میں انہیں کسی خوف کا سامنا ہوگا اور نہ
آخرت میں کسی غم کا۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہر مسلمان
اپنے ایمان کو مضبوط کرے، نیک اعمال کو اختیار کرے اور گناہوں سے بچے تاکہ اللہ کے
فضل و کرم سے وہ بھی اس بشارت کا حق دار بن سکے جس میں خوف و غم کا نام و نشان تک
نہیں۔
اے اللہ! ہمیں ایمان و تقویٰ کی
دولت عطا فرما، اپنے مقرب بندوں کے زمرے میں شامل کر اور ہمیں دنیا و آخرت کے خوف
و غم سے نجات دے کر جنت کے دائمی امن اور سکون سے بہرہ مند فرما۔ آمین بجاہ خاتم
النبیین ﷺ
Dawateislami