احمد رضا انصاری (دورہ حدیث جامعۃ المدینہ فیضانِ
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قیامت کے دن جب ہر طرف نفسی نفسی
کا سما ہوگا، ہر طرف خوف و دہشت چھائی ہوئی ہوگی، ہر ایک گھبراہٹ کا شکار ہوگا،
الغرض ایسے میں اللہ پاک کے کچھ خوش نصیب بندے وہ بھی ہوں گے، جو سکون و اطمینان میں
ہوں گے، ان کو کسی طرح کا کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا بلکہ وہ بے خوف اور پُرامن حالت
میں ہوں گے، قارئین کرام! اللہ پاک کے وہ بندے کون ہوں گے؟ آئیے ! پڑھیے:
(1) اللہ پاک کی ہدایت کی پیروی
کرنے والے: اللہ پاک کے جو بندے دنیا میں
رہتے ہوئے اس کی دی ہوئی ہد آیات پر عمل کرنے والے ہوں گے، وہ ہر طرح کے خوف و غم
سے امن میں ہوں گے، چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ- فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ
مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) ترجمۂ کنزالعرفان: ہم نے فرمایا:
تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری
ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ1 ، البقرۃ:38)
(2) اللہ پاک کے لیے چہرہ جھکانے
والے اور نیکی کرنے والے: ایک انسان کے اعلی ایمان کا معیار یہ ہے کہ وہ اللہ پاک کے احکامات کے
آگے سرِ تسلیم خم کرے (یعنی سر جھکا دے) ، تاکہ قیامت کے دن خوف غم نہ ہو، اللہ
پاک نے ارشاد فرمایا: بَلٰىۗ-مَنْ
اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ
لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا
دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ
کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ1، البقرۃ:112)
(3) اللہ پاک کی راہ میں خرچ
کرکے،احسان نہ جتانے والے: اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کرنا، سعادت مندی کے کاموں میں سے ہے، لیکن
اس سے بڑھ کر خوش بختی کی علامت یہ ہے کہ بندہ خرچ کرکے، اللہ پاک کا اپنے اوپر
احسان سمجھے، نہ کہ دینے والوں پر احسان جتائے،اللہ پاک ایسے ہی لوگوں کے بارے میں
ارشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ
فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ
اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا
هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے خرچ کرنے
کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں ان کا انعام ان کے رب کے پاس ہے
اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:262)
(4) اللہ پاک کی راہ میں ہر حال
میں خرچ کرنے والے : اللہ
پاک کی راہ میں مال خرچ کرنا، کسی صورت نفع سے خالی نہیں ہے اور دن ہو یا رات ،
لوگ دیکھ رہیں ہو یا نہ دیکھ رہیں ہوں ہر حال میں اس کی راہ میں خرچ کرنے والے لوگ
اللہ کی بارگاہ میں زیادہ قرب اور انعام کے لائق ہیں چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد
فرمایا: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ لوگ جو
رات میں اور دن میں ، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا
اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ3، البقرۃ:
274)
(5) ایمان لاکر ثابت قدم رہنے
والے : اللہ پاک کے ایک ہونے اور اس کے
آخری نبی ﷺ کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا اور اس پر ثابت قدم رہنا سب سے بڑی کامیابی
ہے اور ایسے خوش نصیبوں کے لیے جہاں کئی انعامات ہیں، انہی میں سے قیامت کے دن ان
کا بے خوف اور پر امن ہونا بھی ہے ،جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا
رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک
جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ
وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)
(6) ایمان والے اور اصلاح کرنے
والے : اللہ پاک نے اپنے بندوں کو کامیابی
کی ضمانت جن چیزوں کے ساتھ دی ہے،وہ اس کی ذات و صفات پر کامل طریقے سے ایمان لانا
اور اس کے ساتھ اپنے نفس کی اصلاح کرنا، تاکہ بندہ اپنی اصلاح کرنے کر کے ایک با اخلاق
اور باکردار مومن ہو، جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: -فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) ترجمۂ کنز العرفان: تو جو ایمان
لائیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ7، الانعام:48)
(7) اللہ پاک کے اولیا: یوں تو سارے ہی بندے اللہ پاک کے
ہیں، لیکن کچھ خاص ہیں، جنہیں وَلِیُّ اللہ کہاجاتا ہے، اللہ پاک انہی بھی قیامت
کے دن بے خوف اور پُرامن حالت میں رکھے گا، نہ یہ کسی چیز سے خوفزدہ ہوں گے اور نہ
کسی طرح کے غم میں ہوں گے،جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور
نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ11، یونس:62)
قارئین کرام!یہ قرآنی آیات کی
روشنی میں ان لوگوں کا بیان تھا، جن پر قیامت کے دن نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ
غمگین ہوں گے، ہمیں بھی ان آیات پر غور وفکر کرکے، اِن صفات اور اِن اعمال پر عمل
کریں تاکہ ہم بھی قیامت کے دن اللہ پاک کے ان بندوں میں شامل ہوں، جن پر نہ کوئی
خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اللہ پاک ہم سب کو قرآنی آیات و احکام پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami