اللہ تبارک وتعالیٰ نے پوری کائنات کو انسانوں
کے لیے پیدا فرمایا اور انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور یہی
ان کی تخلیق کا مقصد ہے۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) ترجمہ کنز العرفان: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری
عبادت کریں۔ (پ27، الذٰریٰت: 56)
قیامت میں ہر کسی کے ساتھ عدل ہوگا، جس نے جو
اعمال کیے ہوں گے اسی کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ
نَفْسٌ شَیْــٴًـا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۵۴) ترجمہ کنز العرفان: تو آج کسی
جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور تمہیں تمہارے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔ (پ23،
یٰسٓ: 54)
قیامت کا دن بہت سخت ہوگا۔ ہر
کسی کی یہی خواہش ہوگی کہ وہ اس دن کی سختیوں اور پریشانیوں سے بچ جائے۔ اللہ تعالی
ارشاد فرماتا ہے: فَاِذَا جَآءَتِ
الصَّآخَّةُ٘(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَاُمِّهٖ وَاَبِیْهِۙ(۳۵)
وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب وہ کان پھاڑنے والی
چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے
باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی
جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔(پ30، عبس:33تا 37)
اس دن ہر کسی کو اپنی فکر ہوگی
لیکن اس افرا تفریح کے وقت کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ان تمام مشکلات، پریشانیوں اور
غموں سے امن میں ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی اپنے رب کی
فرمانبرداری کر کے نیکیوں میں زندگی گزاری ہوگی۔ ان لوگوں کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن
پاک میں فرمایا ہے:
(1) اللہ تعالیٰ کے ولی امن میں
ہوں گے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ
اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز العرفان:سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا
اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔(پ11، یونس:62، 63)
مفسرین نے اس آیت کے بہت سے
معنی بیان کئے ہیں، ان میں سے 3 معنی درج ذیل ہیں:
(1)مستقبل میں انہیں عذاب کا
خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔
(2) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز
میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر
غمگین ہوں گے۔ (البحرا لمحیط، البقرۃ، تحت الآیۃ: 38، 1/ 323۔جلالین مع صاوی، یونس،
تحت الآیۃ: 62، 3 / 880)
(3) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف
ہوگا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں
ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔
(2) آخرت میں جو لوگ خوش بخت ہوں گے اور اللہ تعالی کی رحمت
میں ہوں گے، ان کے بارے میں قرآن پاک میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ
اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ٘-لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۱)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ
پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ کے ذریعے بچائے گا۔ نہ انہیں عذاب چھوئے گااور نہ
وہ غمگین ہوں گے۔ (پ 24، الزمر: 61)
اس آیت میں پرہیزگار مسلمانوں کا اُخروی حال بیان
کیا جا رہا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ شرک اور گناہوں سے
بچنے والوں کو نجات کی جگہ جنت میں بھیج کر تکبر کرنے والوں کے ٹھکانے جہنم سے بچا
لے گا اور ان کا حال یہ ہو گا کہ نہ ان کے جسموں کو عذاب چھوئے گا اور نہ ان کے
دلوں کو غم پہنچے گا۔(روح البیان، الزّمر، تحت الآیۃ: 61، 8 / 130-131، ملتقطاً)
(3) جہنم کے عذاب سے نجات کا سبب: اس آیت سے معلوم ہوا کہ دنیا میں
پرہیز گاری اختیار کرنا یعنی کفر و شرک اور گناہوں سے بچناقیامت کے دن جہنم کے
عذاب سے نجات پانے کا بہت بڑاسبب ہے۔ اسی سے متعلق ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا
وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌؕ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠(۱۰۳)
ترجمۂ کنزالعرفان:اور اگر وہ ایمان
لاتے اور پرہیزگاری اختیارکرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے،اگر یہ جانتے۔
(پ1، البقرۃ: 103)
Dawateislami