محمد امجد عطّاری ( درجہ خامسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ راولپنڈی
، پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،
جو اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ
مکمل ہدایت دیتا ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کس طرح گزارنی ہے، اس کا طرزِ عمل کیا ہو
اور ہم کن افعال و عادات کے ذریعے اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ذیل میں قرآن
کریم کی روشنی میں چند وہ اعمال ذکر کیے جا رہے ہیں جن کے سبب قیامت میں خوف و غم
سے امن نجات ملے گی۔ ان شاءاللہ
(1)اللہ تعالی پر ایمان لانا: اللہ تعالی، قیامت کے دن پر
ایمان لانا، اس پر قائم رہنا اور اچھے عمل کرنے کےسبب قیامت کے خوف غم سے امن کی
بشارت قرآن کریم نے یوں دی ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا
وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ
عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ
وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ایمان
والے نیز یہودیوں اور نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور
پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کاثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ
انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم۔ (پ1، البقرة:62) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ
الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۴) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت
قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں
رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔ (پ26، الاحقاف:13، 14)
(2)اللہ تعالی کے رسولوں پر ایمان
لانا: وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَۚ-فَمَنْ
اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۴۸) وَ
الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۴۹)
ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم رسولوں کواسی حال میں بھیجتے
ہیں کہ وہ خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے ہوتے ہیں تو جو ایمان لائیں اور
اپنی اصلاح کرلیں تو ان پرنہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جنہوں نے
ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو انہیں ان کی مسلسل نافرمانی کے سبب عذاب پہنچے گا۔ (پ7،
الانعام:48، 49)
(3) نماذ اور زکوة کی ادا کی: ایمان لانے کے بعد نیک اعمال
کرنے ہیں ۔جن اعمال کا دین اسلام تقاضا کرتا ہے :اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ
وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ
رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ
لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا
اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3،
البقرۃ:277)
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین
Dawateislami