بعض اللہ کے محبوب بندے ایسے ہیں جنہیں بروز قیامت اللہ نے خوف اور غم سے آزادی کی بشارت دی ہے جن لوگوں کو نہ خوف ہوگا نہ غم ہوگا وہ لوگ مندرجہ ذیل ہیں :

(1) اللہ کے اولیا

(2) شہدا

(3) غریب مسلمان

(4) اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے

(5) ایمان والے اور نیک عمل کرنے والے

خوف اور غم کے نہ ہونے کا دارومدار ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہونا ہے ۔

(1) اللہ تعالی کا فرمان اپنے اولیا کے بارے : اللہ عزوجل قرآن پاک میں سور ۂ یونس کی آیت نمبر 62، 63 میں ارشاد فرماتا ہے:اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳) ترجمہ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔ (پ11، یونس:62، 63)

مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان کئے ہیں ، ان میں سے 3معنی درج ذیل ہیں:

(۱)مستقبل میں انہیں عذاب کا خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔

(۲) مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلاہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر غمگین ہوں گے۔ (البحرا لمحیط، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۸، ۱ / ۳۲۳۔جلالین مع صاوی، یونس، تحت الآیۃ: ۶۲، ۳ / ۸۸۰)

(۳) قیامت کے دن ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان)

(2) شہدا کے بارے میں اللہ کا فرمان: اللہ پاک سورہ آل عمران کی آیت نمبر 170 میں ارشاد فرماتا ہے:

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ(۱۷۰)ترجمۂ کنز الایمان: شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اور خوشیاں منارہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم۔(پ4، آل عمران: 170)

یہ آیت مبارکہ شہدا کے بارے میں ہے ۔

(3) غریب مسلمانوں کے بارے میں جن کا مزاق اڑایا جاتا تھا : اللہ پاک سورۂ اعراف کی آیت نمبر 49 میں ارشاد فرماتا ہے:اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍؕ-اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان:کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت کچھ نہ کرے گا ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم۔(پ8، الاعراف:49)

(کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر تم قسمیں کھاتے تھے:) اعراف والے غریب جنتی مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے مشرکوں سے کہیں گے کہ کیا یہی وہ غریب مسلمان ہیں جنہیں تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے اور جن کی غریبی فقیری دیکھ کر تم قسمیں کھا تے تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پر رحمت نہیں فرمائے گا، اب خود دیکھ لو کہ وہ جنت کے دائمی عیش و راحت میں کس عزت و احترام کے ساتھ ہیں اور تم کس بڑی مصیبت میں مبتلا ہو۔ (تفسیر صراط الجنان)

(4) اللہ پاک کا فرمان اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کے بارے میں، اللہ پاک سورۂ بقرۃ کی آیت نمبر 262 میں ارشاد فرماتا ہے: اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ (اجروثواب)ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ:262)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے کو بھی نہ خوف ہوگا نہ ہی غم۔

(5) ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کرنے کےلیے ، اللہ پاک سورۂ بقرۃ کی آیت نمبر 277 میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور نماز قائم کی اور زکٰوۃ دی اُن کا نیگ(اجروثواب) ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔(پ3، البقرۃ: 277)

اس آیت مبارکہ سے پتا چلا کہ ایمان والے اور نیک اعمال کرنے والوں کے لیے بروز قیامت الله کا خوف ہوگا نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے ۔

ذرا سوچئے! ہم سب یہی چاہتے ہے کہ ہمیں دنیا میں بھی امن اور آخرت میں بھی امن نصیب ہو۔ ولی اللہ ، شہید ، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا وغیرہ کوئی بھی نیکی ہو اس کا دارومدار ایمان پر ہے ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے بھر پور کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جنت میں وہی جائے گا جو ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔

اللہ عزوجل ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کا ذہن نصیب فرمائے اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین