دین اسلام کی بنیاد دو اہم ستونوں پر ہےاللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت۔ قرآن کریم وہ سرچشمہ ہدایت ہے جو ہمیں زندگی گزارنے کے اصول بتاتا ہے، جبکہ سنتِ رسول ﷺ ان اصولوں کی عملی تشریح اور بہترین نمونہ ہے۔ سنت کو چھوڑنا محض ایک عمل کو ترک کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ایمان کی روح سے دوری اور گمراہی کے راستے پر پہلا قدم ہے۔ جب کوئی انسان سنت سے منہ موڑتا ہے تو وہ درحقیقت اس رہنمائی کا انکار کرتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا۔ قرآن پاک میں جابجا اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کا واحد راستہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں پوشیدہ ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا ہے تاکہ کسی کے دل میں یہ وہم نہ رہے کہ وہ سنت کو چھوڑ کر صرف قرآن پر عمل کر کے کامیاب ہو سکتا ہے۔ سنت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّيترجمہ: جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5063)

اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کی اہمیت کیا ہے۔ سنت کو ترک کرنے والا درحقیقت اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے دور کر رہا ہوتا ہے۔ عام فہم انداز میں یوں سمجھیں کہ جیسے کوئی شاگرد اپنے استاد کے بتائے ہوئے طریقے کو چھوڑ کر اپنی مرضی کرے تو وہ استاد کی نسبت کا حقدار نہیں رہتا، بالکل اسی طرح جو شخص سنت کو نظر انداز کرتا ہے، وہ اس فیضان سے محروم ہو جاتا ہے جو صرف اتباعِ رسول ﷺ میں پوشیدہ ہے۔سنت کی مخالفت اور اسے چھوڑنے والوں کے لیے دین میں سخت تنبیہ آئی ہے۔ جو لوگ دین میں اپنی طرف سے نئی چیزیں نکالتے ہیں اور سنتِ نبوی ﷺ کے قائم کردہ طریقے کو ترجیح نہیں دیتے، ان کے اعمال رد کر دیے جاتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّترجمہ: جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2697)

آج کے دور میں جب ہم معاشرے میں بگاڑ اور فکری گمراہی دیکھتے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ سنتِ نبوی ﷺ کے بجائے من مانی کرنا ہے۔ سنت کو چھوڑنے سے دین کی اصل شکل مسخ ہو جاتی ہے اور انسان صحیح اور غلط کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ یہ ایک ایسی برائی ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ اسلام کی اصل روح سے ہٹا کر گمراہی کی وادیوں میں پھینک دیتی ہے، کیونکہ سنت ہی ہے جو دین کی حفاظت کرتی ہے۔

دین کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کی نجات سنت کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔ سنت کو ترک کرنا گویا ہدایت کے راستے سے اتر جانے کے مترادف ہے۔

نبی کریم ﷺ نے سنت کی پیروی کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِترجمہ: تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور اسے ڈاڑھوں سے (مضبوط) تھامے رکھو۔(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: 4607)

اس حدیث میں "ڈاڑھوں سے پکڑنے" کا مطلب یہ ہے کہ چاہے کتنا ہی مشکل وقت کیوں نہ ہو، سنت کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر ہم اپنی زندگی کے فیصلوں میں، اپنی خوشی اور غمی میں سنت کو چھوڑ دیتے ہیں تو ہم ہدایت کے اس قلعے سے باہر نکل جاتے ہیں جو ہماری حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا۔ سنت کو ترک کرنا درحقیقت اپنی عقل کو وحی اور نبوی بصیرت پر فوقیت دینا ہے، جو کہ سراسر خسارہ ہے۔سنت کی پیروی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے تفرقے اور گمراہی سے بچا جا سکتا ہے۔ جب امت سنت کو چھوڑ دیتی ہے تو وہ مختلف گروہوں میں بٹ کر اپنی طاقت کھو دیتی ہے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِترجمہ: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔(مؤطا امام مالک، حدیث نمبر: 1661)

ترکِ سنت کی سب سے بڑی مذمت یہی ہے کہ اسے چھوڑنے والا ہدایت کے یقینی راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ جب انسان سنت کو بوجھ سمجھنے لگے یا اسے محض ایک اختیاری عمل سمجھ کر نظر انداز کر دے، تو وہ درحقیقت اس ضمانت کو کھو دیتا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے گمراہی سے بچنے کے لیے دی تھی۔ سنتِ رسول ﷺ وہ روشن شاہراہ ہے جس پر چلنے والے کے لیے منزل کا حصول یقینی ہے۔سنتِ نبوی ﷺ سے منہ موڑنا دنیا اور آخرت دونوں میں ذلت اور محرومی کا سبب ہے۔ احادیثِ مبارکہ شاہد ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ہر عمل قیامت تک کے انسانوں کے لیے فلاح کا ذریعہ ہے۔ سنت کو ترک کرنا محض ایک عمل کا چھوٹنا نہیں بلکہ اللہ کی محبت اور اس کی رضا کے راستے سے انحراف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنت کو اپنائیں اور اسے کےچھوڑنے سے خود کو بچائیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں حقیقی ہدایت نصیب ہو اور ہم فتنوں کے دور میں ایمان پر ثابت قدم رہیں، تو ہمیں اپنی زندگیوں کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا، کیونکہ سنت سے وابستگی ہی دین کی بقا اور کامیابی کی واحد کنجی ہے۔