اسلام میں سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ سنتِ رسول ﷺ ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے دینِ اسلام کی مکمل رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ سنت کو اختیار کرنا ایمان کی علامت ہے جبکہ اس کا ترک کرنا سخت مذمت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ سنت کو چھوڑنے والوں کے بارے میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّيترجمہ: "جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔"( صحیح بخاری ،5063)

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِترجمہ: "تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے پکڑو اور اسے دانتوں سے تھام لو۔(سنن ابی داؤد، 4607)

احادیث میں سنت کو مضبوطی سے تھامنےاور سنت سے اعراض نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو اس کی اہمیت اور اس کے ترک کی قباحت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا:كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قِيلَ: وَمَنْ يَأْبَى قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَىترجمہ:"میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے سوائے اس کے جو انکار کرے۔"صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کون انکار کرے گا؟"آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔" (صحیح بخاری،7280)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت (یعنی سنت کی پیروی) جنت کا راستہ ہے جبکہ اس سے روگردانی نقصان کا باعث ہے۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ سنتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا نہایت خطرناک عمل ہے جو انسان کو گمراہی اور اللہ و رسول کی ناراضگی کی طرف لے جاتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور اس کی پیروی میں کامیابی تلاش کرے۔