اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ اس کامل دین میں سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ قرآنِ مجید کے عملی مفہوم کو دنیا کے سامنے نبیِ کریم ﷺ نے اپنے قول و فعل سے واضح فرمایا۔ لہٰذا سنت پر عمل کرنا درحقیقت قرآن پر ہی عمل ہے، اور اس کو ترک کرنا دین کے ایک عظیم حصے سے محرومی ہے۔ آج کے دور میں جہاں نت نئی رسمیں اور خودساختہ طریقے عام ہو رہے ہیں، وہیں سنتوں سے دوری ایک بڑا فتنہ بنتی جا رہی ہے، جس کی مذمت قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔قرآنِ کریم میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃ النساء، آیت 80)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے، اور جو شخص سنت کو چھوڑتا ہے وہ درحقیقت اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا:ترجمہ کنزالایمان:اور جو رسول کا خلاف کرے بعد اس کے کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اُسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بُری جگہ پلٹنے کی ۔ (سورۃ النساء، آیت 115)

یہ آیت ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو جان بوجھ کر سنتِ رسول ﷺ کو ترک کرتے ہیں۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ترکِ سنت کی مذمت:

سنت سے روگردانی پر تنبیہ:جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، حدیث: 5063،صحیح مسلم، کتاب النکاح، حدیث: 1401)

یہ حدیث نہایت سخت ہے، جس میں سنت سے دوری کو نبی ﷺ سے نسبت ختم ہونے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔

سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم:تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت، اسے مضبوطی سے پکڑ لو۔ (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ، حدیث: 4607،جامع ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2676)

یہ حدیث اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ نجات کا راستہ سنت کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔

بدعت اور سنت چھوڑنے کا انجام:جو ہمارے اس دین میں نئی بات نکالے جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلح، حدیث: 2697،صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، حدیث: 1718)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ سنت کو چھوڑ کر نئی راہیں نکالنا اللہ کے نزدیک مردود ہے۔

ترکِ سنت دراصل دین میں کمزوری، غفلت اور دنیاوی رغبت کا نتیجہ ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو نبی کریم ﷺ کے طریقے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، چاہے وہ کھانے پینے کے آداب ہوں، عبادات ہوں یا معاملات۔

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم سنتوں کو سیکھیں،ان پر عمل کریں،دوسروں تک پہنچائیں،کیونکہ نبی کریم ﷺ کی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم آپ کی سنت کو زندہ کریں۔

آخر میں ایک فکر انگیز جملہ:جو سنت کو چھوڑتا ہے، وہ آہستہ آہستہ دین سے دور ہو جاتا ہے اور جو سنت کو اپناتا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے قریب ہو جاتا ہے۔