سنتِ نبوی ﷺ دینِ اسلام کا عملی نمونہ ہے، اور اس کو چھوڑ دینا یعنی ترکِ سنت، درحقیقت ہدایت کے راستے سے انحراف اور گمراہی کی طرف قدم بڑھانا ہے۔آئیے ترک سنت کے متعلق قرآنی آیات کریمہ مطالعہ کریں:

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ

ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃالنساء:80)

فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳)

ترجمہ کنزالایمان: تو ڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا اُن پر دردناک عذاب پڑے۔(سورۃالنور،63)

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ

ترجمہ کنزالایمان: تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں ۔(سورۃالنساء:65)

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ

ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ ۔ (سورۃآل عمران:31)

اسلام میں سنتِ نبوی ﷺ کی حیثیت محض مستحب اعمال کی نہیں بلکہ دین کی عملی تفسیر کی ہے۔ قرآنِ مجید نے جہاں اطاعتِ رسول کو اطاعتِ الٰہی قرار دیا، وہیں احادیثِ مبارکہ نے سنت سے روگردانی کو خطرناک انجام سے جوڑا ہے۔

ترک سنت کے متعلق احادیث طیبہ درج ذیل ہیں:

عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِين ترجمہ:تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے۔( سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 460)

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِيترجمہ:جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی۔( سنن ترمذی، حدیث نمبر 2678)

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ۔۔۔۔ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي.

ترجمہ:حضرت انس فرماتے ہیں کہ چند لوگ نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھنے آئے، پھر انہوں نے (اپنے خیال میں) زیادہ عبادت کا ارادہ کیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا:جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ میں سے نہیں۔(صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر: 5063)

ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا سخت ناپسندیدہ اور خطرناک عمل ہےنبی ﷺ کی سنت ہی ہدایت کا اصل راستہ ہےدین میں اپنی طرف سے اضافہ (بدعت) گمراہی ہے۔کامیابی کا دارومدار اتباعِ سنت پر ہے نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ جو سنت سے اعراض کرے وہ آپ ﷺ سے تعلق کھو دیتا ہے۔ یہ نسبتِ مصطفیٰ ﷺ سے محرومی دراصل ایمان کی روح کے ختم ہونے کے مترادف ہے سنتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا دراصل ہدایت کے چراغ کو بجھانے کے مترادف ہے۔ اگر امت اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس چاہتی ہے تو اسے دوبارہ سنتِ مصطفیٰ ﷺ کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔

الله پاک ہمیں ترک سنت سے محفوظ فرمائے حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یاربّ العٰلمین۔


دینِ اسلام کی اساس دو چیزوں پر ہے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت۔ سنتِ نبوی محض چند افعال کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآنِ کریم کی عملی تفسیر اور ہدایت کا وہ روشن راستہ ہے جس پر چلنا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت اور مغفرت کو اتباعِ رسول ﷺ سے مشروط کر دیا ہے۔

موجودہ دور میں جہاں نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، وہیں شعوری یا لاشعوری طور پر سنتِ رسول ﷺ سے دوری اور اسے پسِ پشت ڈالنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ سنت کو ترک کرنا محض ایک عمل کو چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ یہ گمراہی کی پہلی سیڑھی اور بارگاہِ رسالت سے محرومی کا سبب ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں سنت سے اعراض کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں، کیونکہ جو راستہ سنتِ مطہرہ سے ہٹ جائے، وہ سیدھا ہلاکت اور بدعت کی طرف جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی اہم پہلو کا جائزہ لیں گے کہ فرمانِ رسول ﷺ کی روشنی میں سنت کو چھوڑنے کے کیا نقصانات اور وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔

(1)سنت سے اعراض کرنے والے کا انجام:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے میری سنت سے منہ موڑا، وہ مجھ سے نہیں (یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)۔(صحیح بخاری، حدیث: 5063)

(2)بدعت اور سنت کے ترک پر وعید:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 2697)

وضاحت: سنت کو چھوڑ کر نئی راہیں نکالنا گمراہی کا باعث ہے۔

(3)سنت کی پیروی میں نجات:آپ ﷺ نے ایک طویل حدیث میں ارشاد فرمایا:تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، پس تم میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اسے داڑھوں سے مضبوطی سے تھام لینا (یعنی مضبوطی سے عمل کرنا)۔(جامع ترمذی، حدیث: 2676)

(5) اطاعتِ رسول اور جنت: آپ ﷺ نے فرمایا:میری تمام امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ عرض کیا گیا: یارسول اللہ! انکار کس نے کیا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے (جنت سے) انکار کیا۔(صحیح بخاری، حدیث: 7280)

"اے اللہ! ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کی سنتوں کو اپنانے اور ان پر استقامت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں سنتوں کو چھوڑنے کی نحوست اور گمراہی سے محفوظ رکھ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


جس طرح سنت پر عمل کرنے پر دنیا و آخرت میں بہت سے فوائد و برکات حاصل ہوتے ہیں اسی طرح سنت کو ترک کرنے پر احادیث مبارکہ میں بہت سی وعیدات آئی ہیں۔ ہمارے اسلاف کرام ہر ہر سنت کو اپناتے تھے وہ یہ نہیں سوچتے تھے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ چنانچہ :

دیکھا آپ نے ان کا سنت پہ عمل کا کیسا جذبہ تھا اور جو نفس و شیطان کے چکر میں آکر سنت کو ترک کرتے ہیں جیسا کہ شوشل میڈیا میں آج کل ایسے لوگ آرہے ہیں جو سنت مؤکدہ کے ترک کو بھی قابل گرفت نہیں کہہ رہے ان کے لئے لمحہ فکریہ ہے وہ یہ احادیث ملاحظہ فرمائیں:

سنتِ مؤکّدہ کو ترک کرنے والے پر اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کی لعنت کی وعید ہے۔(مستدرک ، 3 / 375 ، حدیث : 3995 ، الحدیقۃ الندیۃ(مترجم) ، ص443)

اس کےترک پر معاذَاللہ شفاعتِ مصطفٰے ﷺ سے محرومی کی وعیدبھی ہے۔ (بہارشریعت ، حصہ4 ، ص662)

اس کے ترک کی عادت بنانے سے آدمی گناہ گار اور فاسق ہوتا ہے۔(ملفوظات اعلی حضرت ، ص288)

اس کاترک گمراہی کاسبب ہے۔ (مسلم ، ص257 ، حدیث : 1488 ، بہارشریعت ، حصہ4 ، ص662)

اس کے ترک پر خاتمہ خراب ہونے کااندیشہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح ، 2 / 78)

(معاذَاللہ) گھٹیا سمجھتے ہوئے اور ہلکا جان کر سنتوں سے منہ موڑنے والا یا ان میں سے بعض کو چھوڑنے والا کافر اور ملعون ہے۔(مرقاۃ المفاتیح ، 1 / 311 ، تحت الحدیث : 109)

سنتوں کو ترک والوں کے لئے ان احادیث مبارکہ میں عبرت ہی عبرت ہے ایسے علم کا کیا فائدہ جو باعمل نہ بنا سکے ۔ اب داڑھی مبارک جو کہ سنت ہے اور واجب کا درجہ رکھتی ہے ، داڑھی نہ رکھنے والوں یا ایک مٹھی سے گھٹانے والوں کے لئے امیر اہلسنت تحریر پڑھتے ہیں:جب میدانِ قِیامت میں سب جمع ہوں گے ، نفسی نفسی کا عالم ہوگا، ماں بیٹے سے اور بیٹا باپ سے بھاگ رہا ہوگا ۔ اُس وقت ایک ہی تو ذاتِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہوگی جو عاصیوں کی اُمّیدگاہ ہوگی ۔ اسی سرکار نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ اقدس میں سب کو حاضِری دینی ہوگی ۔ یاد رکھئے ! جو جس حال میں مرے گا، اُسی حال میں قِیامت کے روز اٹھایا جائے گا ۔ داڑھی والا، داڑھی کے ساتھ اٹھے گا اور داڑھی مُنڈا، داڑھی مُنڈا ہی اٹھے گا ۔ اے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّت کو پامال کرنے والو! اگر پیارے سرکار شَہَنشاہِ ابرارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ سے اِستِفسار فرما لیا : ’’کیا تم مجھ سے مَحَبَّت کرتے رہے ہو؟‘‘ ظاہر ہے انکار تو کرہی نہیں سکتے ، یہی عرض کریں گے ، : یارسولَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! آپ ہی ہمارے سب کچھ ہیں ، ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنے ماں باپ، مال، اولاد سب سے عزیز تر سمجھتے ہیں ۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !ہم تو دنیا میں جھوم جھوم کر عرض کیا کرتے تھے ۔

مِرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمتِ عالَم! میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لئے

سب کچھ سن کر (اﷲ عَزَّوَجَلَّ نہ کرے ) آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بالفرض یہ ارشاد فرمائیں : ’’اے میرے غلامو! اگر واقعی تم مجھے ماں ، باپ اور مال و اولاد سب سے عزیز تر سمجھے تھے اور صرف میری ہی خاطر دنیا میں زندہ تھے ۔ نیز میرے نام پربِکنے بلکہ جان تک دینے کے لئے تیاّر تھے تو پھر آخِر کیا وجہ تھی کہ شکل و صورت میرے دشمنوں جیسی بنائے پھرتے تھے ؟کیا تم تک میرے یہ ارشادات نہ پہنچے تھے : (1)’’مونچھیں خوب پست (یعنی چھوٹی) کرو اور داڑھیوں کو مُعافی دو (یعنی ان کو بڑھنے دو) اور یہودیوں کی سی صورت مت بناؤ ۔ ‘‘( شرح معانی الآثار ، للطحاوی ج۴ ص۲۸دار الکتب العلمیۃ بیروت)

(2)’’جو میری سنّت اختیار کرے ، وہ میرا اور جو میری سنّت سے منہ پھیرے ، وہ میرا نہیں ۔ ‘‘(کنز العمال ج ۸ ص۱۱۶ رقم ۲۲۷۴۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

(3) ’’جو میری سنّت پر عمل نہ کرے ، وہ مجھ سے نہیں ۔ ‘‘ (سنن ابنِ ماجہ ج۲ ص۴۰۶ حدیث ۱۸۴۶ دار المعرفۃ بیروت)

اگر آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ روٹھ گئے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! فیشن پر مر مٹنے والو! یہ ارشاداتِ عالیہ یاد دلانے کے بعد اگر خدانخواستہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ روٹھ گئے تو آپ کیا کریں گے ؟ کس کے دروازے پر فریاد کریں گے ؟ کس کے دروازے پر شفاعت کی بھیک لینے جائیں گے ؟ کون اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قَہروغَضَب سے بچانے والا ہوگا؟ ابھی موقع ہے ، جب تک سانس باقی ہے ، وقت ہے ، جھٹ پٹ توبہ کرلیجئے ، اپنے چِہرہ کو پیارے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی میٹھی میٹھی سنّت سے آراستہ کرلیجئے ، اپنے چِہرے پرمَحَبَّت کی نشانی سجالیجئے ۔ (کالے بچھو، ص:13)

اللہ پاک ہمیں سنتوں کا سچا پکا عامل بنائے اور ایسے نام نہاد مفکروں سے اور ان کے شر سے محفوظ فرمائے آمین

دیتا ہوں تجھے وَاسِطہ میں پیارے نبی کا اُمَّت کو خدایا رہِ سنّت پہ چلا دے


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سنت وہ عملی نمونہ ہے جو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے ذریعے امت کو عطا فرمایا۔ سنت پر عمل کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی ہے، جبکہ ترکِ سنت ایک قابلِ مذمت عمل ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(سورۃ الحشر:آیت نمبر 7)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سنت کو چھوڑنا دراصل اللہ کے حکم سے روگردانی ہے۔

(1)روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے چھ آدمی وہ ہیں جن پر میں نے اور اللہ نے لعنت کی اور ہر نبی مقبول الدعاء ہے اللہ کی کتاب میں زیادتی کرنے والااللہ کی تقدیر کا انکاری،جبرًا قبضہ جمانے والا تاکہ انہیں ذلیل کرے جنہیں اللہ نے عزت دی او ر انہیں عزت دے جنہیں اللہ نے ذلیل کیا اوراللہ کے حرام کو حلال سمجھنے والا اور میری آل کے متعلق وہ باتیں حلال سمجھنے والا جنہیں اللہ نے حرام کیا اور میری سنت کو چھوڑنے والا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1،حدیث نمبر:109)

(2)حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے جس نے میری سنت سے منہ موڑاوہ مجھ سے نہیں۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:2، حدیث نمبر:143)

حدیث مذکور میں ہے کہ جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے میرے طریقے کو چھوڑکر میرے غیرکے طریقے کو اختیار کیا تو وہ مجھ سے نہیں ۔

(3)حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: جسےیہ پسند ہو کہ کل بروزِ قیامت اﷲتعالیٰ سے حالتِ اسلام میں ملے تو وہ ان (پانچ) نمازوں کو پابندی سے وہاں ادا کرے جہاں اذان دی جاتی ہے، بےشک!اﷲتعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیےسُنَنِ ہُدی ٰمشروع فرمائی ہیں اور نمازیں (مسجد میں با جماعت اداکرنا) بھی سُننِ ہُدیٰ میں سے ہے اور اگر تم گھروں میں نماز پڑھنے لگو جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دوگے اور اگراپنے نبی کی سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ اور ہم نے دیکھا کہ جماعت سے صرف وہی منافق پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق معروف ہو اور ایک شخص کو دو آدمیوں کےدرمیان سہارا دےکر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کردیا جاتا۔اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہےکہ ہمارے پیارے نبی ( ﷺ )نے ہمیں سُنَنِ ہُدیٰ سکھائیں اور نمازیں اُس مسجد میں ادا کرنا بھی سُنَنِ ہُدیٰ میں سے ہے جس میں اذان دی جاتی ہو۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1069)

(4)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔(صحيح البخاری،كتاب الاعتصام بالكتاب والسنۃ ، حدیث: 7280)

اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ حتی الامکان لوگوں کے شُبہات دُور کیے جائیں اللہ تبارک وتعالیٰ سےدعاہےکہ وہ ہمیں ہرمعاملے میں اعتدال اورمیانہ روی سےکام لینےکی توفیق عطا فرمائے اورسنت کےمطابق زندگی گزارنے کی سعادت عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم


اسلام صرف چند اصولوں کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی گزارنے کا ایک خوبصورت طریقہ ہے جو ہمیں اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے اپنے عمل سے سکھایا۔ قرآنِ مجید کے احکامات کو کیسے پورا کرنا ہے، یہ ہمیں سنتِ نبوی ﷺ سے معلوم ہوتا ہے۔ سنت کو چھوڑ دینا صرف ایک اچھی عادت کو چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے آپ کو اس راستے سے دور کرنا ہے جو سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے۔

حضور ﷺ سے تعلق کی بنیاد :سنت پر عمل کرنا دراصل نبی کریم ﷺ سے محبت کا ثبوت ہے۔ جب ہم سنت کو چھوڑتے ہیں، تو ہم اس تعلق کو کمزور کر دیتے ہیں جو ہمیں اپنے نبی ﷺ سے جوڑتا ہے۔

صحیح حدیث میں آپ ﷺ نے بہت واضح الفاظ میں فرمایا:جس نے میری سنت سے منہ موڑا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔(صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 6 حدیث 5053 دار التأصيل القاهرة)

سوچیے! ایک مومن کے لیے اس سے بڑی محرومی کیا ہوگی کہ اس کا تعلق اپنے پیارے نبی ﷺ سے ٹوٹ جائے۔

دین میں توازن اور سنت :کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ بہت زیادہ سختی کرنا ہی دین ہے، جبکہ سنت ہمیں میانہ روی (درمیانہ راستہ) سکھاتی ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق جب کچھ صحابہ نے ہر وقت روزے رکھنے یا نیند قربان کرنے کا ارادہ کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں روکا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، میں رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ آپ ﷺ نے واضح کیا کہ زندگی میں حقوق پورے کرتے ہوئے اللہ کی بندگی کرنا ہی میری سنت ہے۔(صحیح مسلم جلد 4 صفحہ 129 حدیث 1401 دار الطباعۃ العامرة تركيا)

سنت چھوڑنے کے نقصانات :جب ہم سنت کا راستہ چھوڑتے ہیں، تو زندگی میں ایسی نئی باتیں (بدعتیں) شامل ہو جاتی ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ سنت ہمیں ایک ڈھانچہ دیتی ہے جب یہ ڈھانچہ ٹوٹتا ہے، تو انسان اپنی مرضی کے دین پر چلنے لگتا ہے جو اسے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تم پر میری سنت لازم ہے اور خلفاء راشدین کی سنت اسے مضبوطی سے تھامو اور دین میں نئی باتوں سے بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔(سنن ابی داؤد جلد 7 صفحہ 16 حدیث 4607 دار الرسالۃ العالمیہ)

ہدایت کی ضمانت :آج ہم پریشان کیوں ہیں؟ کیونکہ ہم نے وہ راستہ چھوڑ دیا جس کی ضمانت خود حضور ﷺ نے دی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا موطا امام مالك میں حدیث پاک ہے کہ " میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں تم ہرگز گمراہ نہ ہو گے جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔(موطا امام مالک جلد 2 صفحہ 899 حدیث 3 : دار إحياء التراث العربي، بيروت لبنان )

جب تک ہم ان کو پکڑ کر رکھیں گے، ہم کبھی بھٹک نہیں سکتے۔

آج ہم سنت کو "چھوٹی بات" سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کھانے پینے کے آداب، دوسروں سے مسکرا کر ملنا یا سادہ لباس پہننا کوئی ضروری کام نہیں ہے۔ یاد رکھیے، سنت صرف ایک طریقہ نہیں بلکہ ایک نور ہے جو ہمارے اخلاق اور کردار کو سنوارتا ہے۔سنت کو اپنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ہر کام میں یہ دیکھیں کہ ہمارے نبی ﷺ یہ کام کیسے کیا کرتے تھے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہمیں دنیا میں بھی عزت ملے گی اور آخرت میں بھی کامیابی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق و سعادت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔


دینِ اسلام کی بنیاد قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ پر قائم ہے۔ سنتِ نبوی درحقیقت قرآنِ مجید کی عملی تفسیر ہے، جس کے بغیر دین کی صحیح روح کو سمجھنا ممکن نہیں۔ جو شخص سنت کو اختیار کرتا ہے وہ ہدایت کے روشن راستے پر گامزن ہوتا ہے، اور جو اسے ترک کرتا ہے وہ گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے۔ ترکِ سنت محض ایک عمل کو چھوڑ دینا نہیں بلکہ یہ درحقیقت حضور نبی کریم ﷺ کے طریقۂ مبارکہ سے دوری اختیار کرنا ہے، جو ایمان کے لیے خطرناک اور روحانی نقصان کا سبب بنتا ہے۔

سنت سے اعراض کی وعید:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي یعنی جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر 5063)

یہ حدیث نہایت سخت وعید پر مشتمل ہے، جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سنت کو چھوڑ دینا انسان کو نسبتِ مصطفوی ﷺ سے محروم کر دیتا ہے۔

سنت پر عمل کی فضیلت:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ یعنی جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (سنن الترمذی، کتاب العلم، حدیث نمبر 2678)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت پر عمل کرنا دراصل حضور ﷺ سے محبت کا عملی اظہار ہے۔

بدعت اور سنت کا تعلق:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ یعنی جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز نکالی جو اس میں نہیں تھی تو وہ مردود ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، حدیث نمبر 1718)

یہ حدیث اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ سنت کو چھوڑ کر نئی راہیں اختیار کرنا دین میں قبول نہیں۔

سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ… تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ یعنی تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت… اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور دانتوں سے تھام لو۔ (سنن ابی داؤد، کتاب السنہ، حدیث نمبر 4607) اس حدیث میں سنت کی اہمیت اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔

سنت سے دوری گمراہی کا سبب:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي یعنی میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ (موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث نمبر 1594 )

ترکِ سنت درحقیقت ہدایت کے سرچشمے سے دوری اور گمراہی کے دروازے کھولنے کے مترادف ہے۔ جو قومیں سنتِ نبوی سے دور ہوئیں وہ اختلاف، انتشار اور کمزوری کا شکار ہو گئیں، جبکہ جو لوگ سنت کو اپناتے ہیں وہ عزت، استقامت اور اللہ کی رضا حاصل کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ رسول ﷺ کو اختیار کریں، چاہے وہ عبادات ہوں، معاملات ہوں یا اخلاق، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں کامیابی اور آخرت میں سرخروئی عطا کرتا ہے، اور یہی وہ حسنِ عمل ہے جسے دیکھ کر ہر صاحبِ دل رشک کرتا ہے۔اﷲ کریم ہمیں سنتوں پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


سنتِ رسول سے مراد آپ ﷺ کے وہ اقوال، افعال، تقریرات اور صفات ہیں جو آپ نے دین کے بارے میں ظاہر فرمائی۔ قرآن مجید کے بعد سنت ہی اسلام کا دوسرا بڑا ماخذ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں حکم دیا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(۲۱)

ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے۔ (سورۃالاحزاب،21)

اور فرمایا:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-

ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو۔(سورۃالحشر:7)

سنت ترک کرنے کی مذمت پر احادیث:

(1) سنت سے بےرغبتی ایمان کی علامت نہیں:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ یعنی جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063)

اس حدیث میں ”فلیس منی“ کا مطلب ہے کہ وہ میرے طریقے پر نہیں میری امت کا حقیقی فرد نہیں یا اس کا تعلق مجھ سے منقطع ہو گیا۔ یہ بہت سخت وعید ہے اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے اللہ تبارک وتعالی ہمیں حضور ﷺ کی تمام سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

(2)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَأْبَى قَالَ:مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى

ترجمہ: میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔صحابہ نے پوچھا: انکار کون کرتا ہے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔

(صحیح بخاری، حدیث: 7280)

(3)حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌترجمہ: تم میری سنت اور میرے خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے اپنی داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑو، اور نئے ایجاد کردہ امور سے بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ، حدیث: 4607)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنت چھوڑنے سے انسان بدعات سئیہ میں پڑ جاتا ہے، اور بدعت سئیہ کا انجام جہنم ہے کیوں کہ بنیادی طور پر بدعت کی دو قسمیں ہیں :

(1) بدعتِ حسنہ: ایسا نیا کام جو قرآن و حدیث کے مخالف نہ ہو اور مسلمان اسے اچھا جانتے ہوں، تو وہ کام مَردُود اور باطِل نہیں ہوتا۔ مثلاً: اسلامی سرحدوں کی حفاظت کے لئے قلعے بنانا، مدارس قائم کرنا اور عِلمی کام کی تصنیف کرنا وغیرہ ۔

(2)بدعتِ سَیِّئَہ: دین میں ایسا نیا کام کہ جو قرآن و حدیث سے ٹکراتا ہو۔ مذکورہ بالا حدیثِ پاک میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ بدعت کی تقسیم کرتے ہوئے علّامہ بَدْرُ الدِّین عینی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 855ھ) فرماتے ہیں:’’ثم البدعۃ علی نوعین: ان کانت مما تندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی حسنۃ وان کانت مما تندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی مستقبحۃ‘‘ ترجمہ: بدعت کی دو قسمیں ہیں: (1)اگر وہ شریعت میں کسی اچھے کام کے تحت ہو، تو بدعتِ حسنہ ہوگی۔ (2)اگر شریعت میں کسی قبیح امر (بُرے کام) کے تحت ہو، تو بدعتِ قَبیحہ یعنی سیئہ ہو گی۔ (عمدۃ القاری،ج 8،ص245، تحت الحدیث:2010)

جبکہ علّامہ ابنِ حَجر عَسْقَلانی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 852ھ) فرماتے ہیں: ”قال الشافعی البدعۃ بدعتان محمودۃ ومذمومۃ فما وافق السنۃ فھو محمودۃ وما خالفھا فھو مذموم“ ترجمہ:امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:بدعت دو اقسام پرمشتمل ہے: (1)بدعتِ محمودہ یعنی حَسَنہ اور (2)بدعتِ مَذْمُومہ یعنی سَیِّئہ۔جو سنّت کے موافق ہو، وہ بدعتِ محمودہ (جس کی تعریف ہویعنی اچھی) اور جو سنّت کے خلاف ہو، وہ بدعتِ مَذْمومہ(جس کی مذمت کی جائے یعنی بُری) ہے۔(فتح الباری،ج14،ص216،تحت الحدیث :7277)

بدعت کی یہی دو قسمیں رسولِ اکرم ﷺ کےاس فرمان سے بھی ماخوذ ہیں: مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَایَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ عَلَیْہِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَا یَنْقُصُ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیْءٌ ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی اچھا کام جاری کیا اور اُس کے بعد اُس پر عمل کیا گیا تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کی طرح اَجْر ملے گا اورعمل کرنے والوں کے اَجْر و ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ نکالااور اُس کے بعد اُس پرعمل کیا گیا تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کی مانند گناہ ملے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ کی جائے گی۔( مسلم،ص394،حدیث:2351)

اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ 


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس دین کی بنیاد قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ پر قائم ہے۔ سنت سے مراد حضور نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات ہیں۔ سنت دراصل قرآن کی عملی تفسیر ہے، جس کے بغیر دین کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔

آج کے دور میں ایک بڑا مسئلہ یہ پیدا ہو چکا ہے کہ لوگ سنتوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ یہی سنتیں انسان کی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔ ترکِ سنت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر حضور ﷺ کے طریقے کو چھوڑ دے، جو کہ ایک خطرناک رویہ ہے۔

سنت کی اہمیت:سنت کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبی ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ جو شخص سنت پر عمل کرتا ہے وہ دراصل اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے، جبکہ سنت کو چھوڑنا انسان کو گمراہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔سنتیں ہماری روزمرہ زندگی کو خوبصورت بناتی ہیں، جیسے کھانے پینے کے آداب، سونے جاگنے کے طریقے، لباس پہننے کا انداز، اور لوگوں سے حسنِ سلوک۔ یہ تمام چیزیں انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہیں۔

ترکِ سنت کے نقصانات:ترکِ سنت کے کئی نقصانات ہیں:دین میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے،انسان آہستہ آہستہ بدعات کی طرف مائل ہو جاتا ہے،نبی ﷺ کی محبت کمزور ہو جاتی ہے،آخرت میں نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،جب انسان سنت کو چھوڑتا ہے تو وہ دراصل ایک قیمتی خزانے سے خود کو محروم کر لیتا ہے۔

سنت پر عمل کے فوائد:اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا حاصل ہوتی ہے،زندگی میں برکت اور سکون آتا ہے،انسان کا کردار خوبصورت بنتا ہے،آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے،سنت پر عمل کرنے والا شخص ہر لمحہ عبادت میں ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنی زندگی کو نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق ڈھالتا ہے۔

دین کو مکمل طور پر اپنانا ضروری ہے:ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام آدھا ادھورا عمل کرنے کا نام نہیں۔ اگر ہم صرف فرائض پر اکتفا کریں اور سنتوں کو چھوڑ دیں تو ہمارا دین مکمل نہیں رہتا۔ امت کو چاہیے کہ دین کو مکمل طور پر اپنائے۔

چھوٹی سنتوں کو معمولی نہ سمجھا جائے:اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ چھوٹی سنتوں پر عمل ضروری نہیں، لیکن یہی چھوٹی چیزیں اللہ کے ہاں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ امت کو یہ سبق لینا چاہیے کہ ہر سنت قیمتی ہے۔

نبی ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا:اگر ہم واقعی نبی کریم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کی سنتوں پر عمل کرنا ہوگا۔ صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں، بلکہ عملی زندگی میں سنت کو اپنانا ضروری ہے۔

بدعات سے بچنے کا راستہ:جب لوگ سنت کو چھوڑتے ہیں تو اس کی جگہ نئی نئی چیزیں (بدعات) آ جاتی ہیں۔ امت کے لیے یہ ایک بڑا سبق ہے کہ سنت کو مضبوطی سے تھام کر ہی ہم بدعات سے بچ سکتے ہیں۔

نئی نسل کی تربیت:آج کی نوجوان نسل کو سنتوں سے دوری کا سامنا ہے۔

آج کے دور میں ہماری ذمہ داری:ہمیں چاہیے کہ:سنتوں کو سیکھیں اور دوسروں کو بھی سکھائیں۔

چھوٹی چھوٹی سنتوں پر بھی عمل کریں۔اپنے گھروں میں سنت کا ماحول قائم کریں۔نئی نسل کو سنت کی اہمیت بتائیں۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، نہ کہ اسے صرف کتابوں تک محدود رکھیں۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ترکِ سنت ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو دین سے دور کر سکتا ہے، جبکہ سنت پر عمل انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سنت کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم چھوٹی چھوٹی سنتوں کو بھی اپنالیں تو ہماری زندگی میں بڑی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 


اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دینِ متین میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ سنت دراصل قرآنِ مجید کی عملی تفسیر اور اسوۂ حسنہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، لہٰذا آپ ﷺ کے طریقوں کو اپنانا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس کے برعکس سنت کو چھوڑ دینا ایک نہایت قابلِ مذمت عمل ہے جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت تنبیہات وارد ہوئی ہیں۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔ ( البخاری کتاب النكاح باب الترغيب فی النكاح حديث5063)

اس حدیثِ مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت کو نظر انداز کرنا انسان کو حضور ﷺ کی خاص نسبت اور قرب سے محروم کر دیتا ہے۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھامے رکھو۔ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث 4607، ج 4، ص 200، المكتبۃ العصریہ، بيروت )

اس ارشادِ گرامی میں امت کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سنت کو مضبوطی سے پکڑے رکھے، کیونکہ یہی ہدایت اور نجات کا راستہ ہے۔ترکِ سنت کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے دین کی عملی صورت کمزور ہو جاتی ہے۔ جب معاشرے میں سنتوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو آہستہ آہستہ اسلامی شعائر مٹنے لگتے ہیں اور غیر اسلامی طریقے رواج پانے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف فرد بلکہ پورا معاشرہ دینی اعتبار سے کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص سنتوں کو زندہ کرتا ہے وہ گویا دین کی بقا میں حصہ ڈالتا ہے اور عظیم اجر کا مستحق بنتا ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین مثال ہیں۔ وہ نبی کریم ﷺ کی ہر ادا کو اپنانے کی کوشش کرتے تھے اور معمولی سی سنت کو بھی نظر انداز نہیں کرتے تھے۔ ان کا یہ طرزِ عمل ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ کامیابی کا راستہ سنت کی پیروی میں ہی پوشیدہ ہے۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ نبوی ﷺ کو اختیار کرے، چھوٹی سے چھوٹی سنت کو بھی اہمیت دے اور اپنے ظاہر و باطن کو سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ یہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ اور حقیقی محبتِ رسول ﷺ کا عملی ثبوت ہے۔


ترک سنت کی مذمت پر ہمیں کئی احادیث ملتن میں وعید کا ذکر ہوا ہے ۔اولًا آپ یہ بات ذہن نشین کرلے ابتداً آقا کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کی سنتیں دو قسم کی ہیں:

(1)سنن ہدی : اسے سنت مؤکدہ بھی کہتے ہیں اور یہ وہ سنتیں جو حضور علیہ السلام نے ہمیشہ اداکی لیکن کبھی کبھار بیان جواز کیلئے ترک بھی فرمایا ۔

یا وہ سنتیں جن کے کرنے کی تاکید فرمائی لیکن چھوڑنے کی رخصت بالکل ختم نہ فرمائی ، شریعت مطہره میں اس کے کرنے کی تاکید ہے یہاں تک کہ بلا عذر ایک بار بھی چھوڑ نے والا ملامت کا مستحق ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی اسے ترک کرنے کی عادت بنالے تو وہ فاسق مردود الشہادۃ اور عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے ۔

(2) سنن زوائد: جنہیں سنت غیر مؤکدہ بھی کہا جاتا ہے یہ وہ سنتیں ہیں جن کا ترک کرنا شریعت میں ناپسندیدہ ضرور ہے مگر ترک کرنا اتنا برا نہیں کہ اس پر کوئی وعید یا ترک اصرار کی صورت میں گناہ ہو ۔

حدیث پاک میں ہے سنت مؤکدہ کو ترک کرنا حرام کے قریب ہے اسے ترک کرنے والا معاذ الله شفاعت سے محروم ہو جائے گا ۔ حضور علیہ اسلام کے اس فرمان کی وجہ سے جو میری سنت کو ترک کریگا اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔(رد المحتار جلد 1 صفحہ 232)

تو اس سے پتا چلا کہ سنت مؤکدہ کو ترک کی عادت بنا لینا گناہ ہے اگر یوں کہوں تو میری بات غلط نہ ہوگی حضور علیہ السلام سے محبت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ مؤکدہ و غیر مؤکدہ سب ہی سنتوں پر عمل کی عادت بنائی جائے۔ اور

تو ان احادیث سے ہمیں پتا چلا کہ ہمیں آقا کریم علیہ السلام کی ہر ہر سنتوں سے محبت کرنی ہے اور اسکو اپنی زندگی میں عملی جامہ بھی پہنانا(عمل کرنا) ہے اور ایک حضور علیہ السلام کے غلام اور امتی ہونے کا حق بھی یہی ہے کہ غلام اپنے آقا کی ہر ادا کو اپنانے کی کوشش کرے۔ اللہ کریم ہم تمام کو حضور علیہ السلام کی سنتوں سے محبت کرنے اور اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق رفیق مرحمت فرمائے آمین۔