ضیاء
المصطفیٰ عطاری قادری (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
سنتِ نبوی
ﷺ دینِ اسلام کا عملی نمونہ ہے، اور اس کو چھوڑ دینا یعنی ترکِ سنت، درحقیقت ہدایت
کے راستے سے انحراف اور گمراہی کی طرف قدم بڑھانا ہے۔آئیے ترک سنت کے متعلق قرآنی
آیات کریمہ مطالعہ کریں:
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ
ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم
مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃالنساء:80)
فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ
اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳)
ترجمہ کنزالایمان: تو ڈریں وہ
جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا اُن پر دردناک عذاب
پڑے۔(سورۃالنور،63)
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى
یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ
ترجمہ کنزالایمان: تو اے
محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں
حاکم نہ بنائیں ۔(سورۃالنساء:65)
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ
ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب
تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ ۔ (سورۃآل عمران:31)
اسلام میں
سنتِ نبوی ﷺ کی حیثیت محض مستحب اعمال کی نہیں بلکہ دین کی عملی تفسیر کی ہے۔
قرآنِ مجید نے جہاں اطاعتِ رسول کو اطاعتِ الٰہی قرار دیا، وہیں احادیثِ مبارکہ نے
سنت سے روگردانی کو خطرناک انجام سے جوڑا ہے۔
ترک سنت کے متعلق احادیث طیبہ درج ذیل
ہیں:
عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ
الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِين ترجمہ:تم پر میری سنت
اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے۔( سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 460)
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺمَنْ
أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِيترجمہ:جس نے میری سنت کو زندہ کیا
اس نے مجھ سے محبت کی۔( سنن ترمذی، حدیث نمبر 2678)
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَ ثَلاَثَةُ رَهْطٍ إِلَى بُيُوتِ أَزْوَاجِ
النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ
النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا كَأَنَّهُمْ
تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّم ۔۔۔۔ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ
سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي.
ترجمہ:حضرت
انس فرماتے ہیں کہ چند لوگ نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھنے آئے، پھر انہوں نے
(اپنے خیال میں) زیادہ عبادت کا ارادہ کیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا:جو میری سنت سے
اعراض کرے وہ مجھ میں سے نہیں۔(صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر: 5063)
ان احادیث
سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا سخت ناپسندیدہ اور خطرناک عمل ہےنبی ﷺ کی سنت ہی
ہدایت کا اصل راستہ ہےدین میں اپنی طرف سے اضافہ (بدعت) گمراہی ہے۔کامیابی کا
دارومدار اتباعِ سنت پر ہے نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ جو سنت سے
اعراض کرے وہ آپ ﷺ سے تعلق کھو دیتا ہے۔ یہ نسبتِ مصطفیٰ ﷺ سے محرومی دراصل ایمان
کی روح کے ختم ہونے کے مترادف ہے سنتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا دراصل ہدایت کے چراغ کو
بجھانے کے مترادف ہے۔ اگر امت اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس چاہتی ہے تو اسے دوبارہ
سنتِ مصطفیٰ ﷺ کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔
الله پاک
ہمیں ترک سنت سے محفوظ فرمائے حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین یاربّ العٰلمین۔
Dawateislami