اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس دین کی بنیاد قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ پر قائم ہے۔ سنت سے مراد حضور نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات ہیں۔ سنت دراصل قرآن کی عملی تفسیر ہے، جس کے بغیر دین کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔

آج کے دور میں ایک بڑا مسئلہ یہ پیدا ہو چکا ہے کہ لوگ سنتوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ یہی سنتیں انسان کی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔ ترکِ سنت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر حضور ﷺ کے طریقے کو چھوڑ دے، جو کہ ایک خطرناک رویہ ہے۔

سنت کی اہمیت:سنت کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبی ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ جو شخص سنت پر عمل کرتا ہے وہ دراصل اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے، جبکہ سنت کو چھوڑنا انسان کو گمراہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔سنتیں ہماری روزمرہ زندگی کو خوبصورت بناتی ہیں، جیسے کھانے پینے کے آداب، سونے جاگنے کے طریقے، لباس پہننے کا انداز، اور لوگوں سے حسنِ سلوک۔ یہ تمام چیزیں انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہیں۔

ترکِ سنت کے نقصانات:ترکِ سنت کے کئی نقصانات ہیں:دین میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے،انسان آہستہ آہستہ بدعات کی طرف مائل ہو جاتا ہے،نبی ﷺ کی محبت کمزور ہو جاتی ہے،آخرت میں نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،جب انسان سنت کو چھوڑتا ہے تو وہ دراصل ایک قیمتی خزانے سے خود کو محروم کر لیتا ہے۔

سنت پر عمل کے فوائد:اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا حاصل ہوتی ہے،زندگی میں برکت اور سکون آتا ہے،انسان کا کردار خوبصورت بنتا ہے،آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے،سنت پر عمل کرنے والا شخص ہر لمحہ عبادت میں ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنی زندگی کو نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق ڈھالتا ہے۔

دین کو مکمل طور پر اپنانا ضروری ہے:ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام آدھا ادھورا عمل کرنے کا نام نہیں۔ اگر ہم صرف فرائض پر اکتفا کریں اور سنتوں کو چھوڑ دیں تو ہمارا دین مکمل نہیں رہتا۔ امت کو چاہیے کہ دین کو مکمل طور پر اپنائے۔

چھوٹی سنتوں کو معمولی نہ سمجھا جائے:اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ چھوٹی سنتوں پر عمل ضروری نہیں، لیکن یہی چھوٹی چیزیں اللہ کے ہاں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ امت کو یہ سبق لینا چاہیے کہ ہر سنت قیمتی ہے۔

نبی ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا:اگر ہم واقعی نبی کریم ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کی سنتوں پر عمل کرنا ہوگا۔ صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں، بلکہ عملی زندگی میں سنت کو اپنانا ضروری ہے۔

بدعات سے بچنے کا راستہ:جب لوگ سنت کو چھوڑتے ہیں تو اس کی جگہ نئی نئی چیزیں (بدعات) آ جاتی ہیں۔ امت کے لیے یہ ایک بڑا سبق ہے کہ سنت کو مضبوطی سے تھام کر ہی ہم بدعات سے بچ سکتے ہیں۔

نئی نسل کی تربیت:آج کی نوجوان نسل کو سنتوں سے دوری کا سامنا ہے۔

آج کے دور میں ہماری ذمہ داری:ہمیں چاہیے کہ:سنتوں کو سیکھیں اور دوسروں کو بھی سکھائیں۔

چھوٹی چھوٹی سنتوں پر بھی عمل کریں۔اپنے گھروں میں سنت کا ماحول قائم کریں۔نئی نسل کو سنت کی اہمیت بتائیں۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، نہ کہ اسے صرف کتابوں تک محدود رکھیں۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ترکِ سنت ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو دین سے دور کر سکتا ہے، جبکہ سنت پر عمل انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سنت کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم چھوٹی چھوٹی سنتوں کو بھی اپنالیں تو ہماری زندگی میں بڑی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔