ابو
ثوبان سید محمد ارسلان قریشی عطاری (درجہ عالمیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی
،کراچی ،پاکستان)
اسلام صرف
چند اصولوں کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی گزارنے کا ایک خوبصورت طریقہ ہے جو ہمیں
اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے اپنے عمل سے سکھایا۔ قرآنِ مجید کے احکامات کو کیسے پورا
کرنا ہے، یہ ہمیں سنتِ نبوی ﷺ سے معلوم ہوتا ہے۔ سنت کو چھوڑ دینا صرف ایک اچھی
عادت کو چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے آپ کو اس راستے سے دور کرنا ہے جو سیدھا جنت
کی طرف جاتا ہے۔
حضور ﷺ سے تعلق کی بنیاد :سنت پر عمل کرنا دراصل نبی کریم ﷺ سے محبت کا ثبوت ہے۔ جب ہم سنت کو چھوڑتے
ہیں، تو ہم اس تعلق کو کمزور کر دیتے ہیں جو ہمیں اپنے نبی ﷺ سے جوڑتا ہے۔
صحیح حدیث
میں آپ ﷺ نے بہت واضح الفاظ میں فرمایا:جس نے میری سنت سے منہ موڑا، اس کا مجھ سے
کوئی تعلق نہیں۔(صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 6 حدیث 5053 دار التأصيل القاهرة)
سوچیے! ایک مومن کے لیے اس سے بڑی محرومی کیا ہوگی کہ اس کا تعلق اپنے پیارے
نبی ﷺ سے ٹوٹ جائے۔
دین میں توازن اور سنت :کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ بہت زیادہ سختی کرنا ہی دین ہے، جبکہ سنت ہمیں میانہ
روی (درمیانہ راستہ) سکھاتی ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق جب کچھ صحابہ نے
ہر وقت روزے رکھنے یا نیند قربان کرنے کا ارادہ کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں روکا۔ آپ ﷺ
نے فرمایا کہ میں روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، میں رات کو عبادت بھی
کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ آپ ﷺ نے واضح کیا کہ زندگی میں حقوق پورے کرتے ہوئے
اللہ کی بندگی کرنا ہی میری سنت ہے۔(صحیح مسلم جلد 4 صفحہ 129 حدیث 1401 دار
الطباعۃ العامرة تركيا)
سنت چھوڑنے کے نقصانات :جب ہم سنت کا راستہ چھوڑتے ہیں، تو زندگی میں ایسی نئی باتیں (بدعتیں) شامل
ہو جاتی ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ سنت ہمیں ایک ڈھانچہ دیتی ہے جب یہ
ڈھانچہ ٹوٹتا ہے، تو انسان اپنی مرضی کے دین پر چلنے لگتا ہے جو اسے گمراہی کی طرف
لے جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تم پر میری سنت لازم ہے اور خلفاء راشدین کی سنت
اسے مضبوطی سے تھامو اور دین میں نئی باتوں سے بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور
ہر بدعت گمراہی ہے۔(سنن ابی داؤد جلد 7 صفحہ 16 حدیث 4607 دار الرسالۃ العالمیہ)
ہدایت کی ضمانت :آج ہم پریشان کیوں ہیں؟ کیونکہ ہم نے وہ راستہ چھوڑ دیا جس کی ضمانت خود
حضور ﷺ نے دی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا موطا امام مالك میں حدیث پاک ہے کہ " میں
تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں تم ہرگز گمراہ نہ ہو گے جب تک تم انہیں
مضبوطی سے تھامے رہو گے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔(موطا امام مالک جلد 2 صفحہ 899
حدیث 3 : دار إحياء التراث العربي، بيروت لبنان )
جب تک ہم
ان کو پکڑ کر رکھیں گے، ہم کبھی بھٹک نہیں سکتے۔
آج ہم سنت کو "چھوٹی بات" سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں
کہ کھانے پینے کے آداب، دوسروں سے مسکرا کر ملنا یا سادہ لباس پہننا کوئی ضروری
کام نہیں ہے۔ یاد رکھیے، سنت صرف ایک طریقہ نہیں بلکہ ایک نور ہے جو ہمارے اخلاق
اور کردار کو سنوارتا ہے۔سنت کو اپنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ہر کام میں یہ دیکھیں
کہ ہمارے نبی ﷺ یہ کام کیسے کیا کرتے تھے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہمیں دنیا
میں بھی عزت ملے گی اور آخرت میں بھی کامیابی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق و سعادت
عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
Dawateislami