دینِ اسلام کی بنیاد قرآنِ کریم اور سنتِ رسول ﷺ پر قائم ہے۔ سنتِ نبوی درحقیقت قرآنِ مجید کی عملی تفسیر ہے، جس کے بغیر دین کی صحیح روح کو سمجھنا ممکن نہیں۔ جو شخص سنت کو اختیار کرتا ہے وہ ہدایت کے روشن راستے پر گامزن ہوتا ہے، اور جو اسے ترک کرتا ہے وہ گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے۔ ترکِ سنت محض ایک عمل کو چھوڑ دینا نہیں بلکہ یہ درحقیقت حضور نبی کریم ﷺ کے طریقۂ مبارکہ سے دوری اختیار کرنا ہے، جو ایمان کے لیے خطرناک اور روحانی نقصان کا سبب بنتا ہے۔

سنت سے اعراض کی وعید:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي یعنی جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح البخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر 5063)

یہ حدیث نہایت سخت وعید پر مشتمل ہے، جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سنت کو چھوڑ دینا انسان کو نسبتِ مصطفوی ﷺ سے محروم کر دیتا ہے۔

سنت پر عمل کی فضیلت:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ یعنی جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (سنن الترمذی، کتاب العلم، حدیث نمبر 2678)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت پر عمل کرنا دراصل حضور ﷺ سے محبت کا عملی اظہار ہے۔

بدعت اور سنت کا تعلق:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ یعنی جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز نکالی جو اس میں نہیں تھی تو وہ مردود ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، حدیث نمبر 1718)

یہ حدیث اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ سنت کو چھوڑ کر نئی راہیں اختیار کرنا دین میں قبول نہیں۔

سنت کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ… تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ یعنی تم پر لازم ہے میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت… اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور دانتوں سے تھام لو۔ (سنن ابی داؤد، کتاب السنہ، حدیث نمبر 4607) اس حدیث میں سنت کی اہمیت اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔

سنت سے دوری گمراہی کا سبب:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي یعنی میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ (موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث نمبر 1594 )

ترکِ سنت درحقیقت ہدایت کے سرچشمے سے دوری اور گمراہی کے دروازے کھولنے کے مترادف ہے۔ جو قومیں سنتِ نبوی سے دور ہوئیں وہ اختلاف، انتشار اور کمزوری کا شکار ہو گئیں، جبکہ جو لوگ سنت کو اپناتے ہیں وہ عزت، استقامت اور اللہ کی رضا حاصل کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ رسول ﷺ کو اختیار کریں، چاہے وہ عبادات ہوں، معاملات ہوں یا اخلاق، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں کامیابی اور آخرت میں سرخروئی عطا کرتا ہے، اور یہی وہ حسنِ عمل ہے جسے دیکھ کر ہر صاحبِ دل رشک کرتا ہے۔اﷲ کریم ہمیں سنتوں پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ