ابو
المتین محمد جمن عطاری(درجہ دورہ حدیث جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ،کراچی،پاکستان)
اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کی انفرادی اور
اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دینِ متین میں نبی کریم ﷺ
کی سنت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ سنت دراصل قرآنِ مجید کی عملی تفسیر اور
اسوۂ حسنہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی
زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، لہٰذا آپ ﷺ کے طریقوں کو اپنانا ہی کامیابی کی
ضمانت ہے۔ اس کے برعکس سنت کو چھوڑ دینا ایک نہایت قابلِ مذمت عمل ہے جس پر احادیثِ
مبارکہ میں سخت تنبیہات وارد ہوئی ہیں۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری سنت
سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔ ( البخاری کتاب النكاح باب الترغيب فی النكاح
حديث5063)
اس حدیثِ مبارکہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت کو
نظر انداز کرنا انسان کو حضور ﷺ کی خاص نسبت اور قرب سے محروم کر دیتا ہے۔ اسی طرح
ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی
سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھامے رکھو۔ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث 4607، ج 4، ص
200، المكتبۃ العصریہ، بيروت )
اس ارشادِ گرامی میں امت کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ وہ
سنت کو مضبوطی سے پکڑے رکھے، کیونکہ یہی ہدایت اور نجات کا راستہ ہے۔ترکِ سنت کا ایک
بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے دین کی عملی صورت کمزور ہو جاتی ہے۔ جب معاشرے میں سنتوں
کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو آہستہ آہستہ اسلامی شعائر مٹنے لگتے ہیں اور غیر اسلامی طریقے
رواج پانے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف فرد بلکہ پورا معاشرہ دینی اعتبار سے
کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص سنتوں کو زندہ کرتا ہے وہ گویا دین کی بقا میں
حصہ ڈالتا ہے اور عظیم اجر کا مستحق بنتا ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں ہمارے لیے بہترین
مثال ہیں۔ وہ نبی کریم ﷺ کی ہر ادا کو اپنانے کی کوشش کرتے تھے اور معمولی سی سنت
کو بھی نظر انداز نہیں کرتے تھے۔ ان کا یہ طرزِ عمل ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ کامیابی
کا راستہ سنت کی پیروی میں ہی پوشیدہ ہے۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی
کے ہر شعبے میں سنتِ نبوی ﷺ کو اختیار کرے، چھوٹی سے چھوٹی سنت کو بھی اہمیت دے
اور اپنے ظاہر و باطن کو سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ یہی دنیا و آخرت میں
کامیابی کا ذریعہ اور حقیقی محبتِ رسول ﷺ کا عملی ثبوت ہے۔
Dawateislami