اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی ﷺ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سنت وہ عملی نمونہ ہے جو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے ذریعے امت کو عطا فرمایا۔ سنت پر عمل کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی ہے، جبکہ ترکِ سنت ایک قابلِ مذمت عمل ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(سورۃ الحشر:آیت نمبر 7)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سنت کو چھوڑنا دراصل اللہ کے حکم سے روگردانی ہے۔

(1)روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے چھ آدمی وہ ہیں جن پر میں نے اور اللہ نے لعنت کی اور ہر نبی مقبول الدعاء ہے اللہ کی کتاب میں زیادتی کرنے والااللہ کی تقدیر کا انکاری،جبرًا قبضہ جمانے والا تاکہ انہیں ذلیل کرے جنہیں اللہ نے عزت دی او ر انہیں عزت دے جنہیں اللہ نے ذلیل کیا اوراللہ کے حرام کو حلال سمجھنے والا اور میری آل کے متعلق وہ باتیں حلال سمجھنے والا جنہیں اللہ نے حرام کیا اور میری سنت کو چھوڑنے والا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1،حدیث نمبر:109)

(2)حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے جس نے میری سنت سے منہ موڑاوہ مجھ سے نہیں۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:2، حدیث نمبر:143)

حدیث مذکور میں ہے کہ جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے میرے طریقے کو چھوڑکر میرے غیرکے طریقے کو اختیار کیا تو وہ مجھ سے نہیں ۔

(3)حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: جسےیہ پسند ہو کہ کل بروزِ قیامت اﷲتعالیٰ سے حالتِ اسلام میں ملے تو وہ ان (پانچ) نمازوں کو پابندی سے وہاں ادا کرے جہاں اذان دی جاتی ہے، بےشک!اﷲتعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیےسُنَنِ ہُدی ٰمشروع فرمائی ہیں اور نمازیں (مسجد میں با جماعت اداکرنا) بھی سُننِ ہُدیٰ میں سے ہے اور اگر تم گھروں میں نماز پڑھنے لگو جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دوگے اور اگراپنے نبی کی سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ اور ہم نے دیکھا کہ جماعت سے صرف وہی منافق پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق معروف ہو اور ایک شخص کو دو آدمیوں کےدرمیان سہارا دےکر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کردیا جاتا۔اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہےکہ ہمارے پیارے نبی ( ﷺ )نے ہمیں سُنَنِ ہُدیٰ سکھائیں اور نمازیں اُس مسجد میں ادا کرنا بھی سُنَنِ ہُدیٰ میں سے ہے جس میں اذان دی جاتی ہو۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1069)

(4)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔(صحيح البخاری،كتاب الاعتصام بالكتاب والسنۃ ، حدیث: 7280)

اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ حتی الامکان لوگوں کے شُبہات دُور کیے جائیں اللہ تبارک وتعالیٰ سےدعاہےکہ وہ ہمیں ہرمعاملے میں اعتدال اورمیانہ روی سےکام لینےکی توفیق عطا فرمائے اورسنت کےمطابق زندگی گزارنے کی سعادت عطافرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم