محمد
انس عطاری (درجہ دورہ حدیث جامعہ فیضان غوث الاعظم ،کراچی،پاکستان)
ترک سنت کی مذمت پر ہمیں کئی احادیث ملتن میں وعید کا
ذکر ہوا ہے ۔اولًا آپ یہ بات ذہن نشین کرلے ابتداً آقا کریم علیہ افضل الصلاۃ
والتسلیم کی سنتیں دو قسم کی ہیں:
(1)سنن ہدی : اسے سنت مؤکدہ بھی کہتے ہیں اور یہ وہ سنتیں
جو حضور علیہ السلام نے ہمیشہ اداکی لیکن کبھی کبھار بیان جواز کیلئے ترک بھی فرمایا
۔
یا وہ سنتیں جن کے کرنے کی تاکید فرمائی لیکن چھوڑنے کی
رخصت بالکل ختم نہ فرمائی ، شریعت مطہره میں اس کے کرنے کی تاکید ہے یہاں تک کہ
بلا عذر ایک بار بھی چھوڑ نے والا ملامت کا مستحق ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی اسے ترک
کرنے کی عادت بنالے تو وہ فاسق مردود الشہادۃ اور عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے ۔
(2) سنن زوائد: جنہیں سنت غیر مؤکدہ بھی کہا
جاتا ہے یہ وہ سنتیں ہیں جن کا ترک کرنا شریعت میں ناپسندیدہ ضرور ہے مگر ترک کرنا
اتنا برا نہیں کہ اس پر کوئی وعید یا ترک اصرار کی صورت میں گناہ ہو ۔
حدیث پاک میں ہے
سنت مؤکدہ کو ترک کرنا حرام کے قریب ہے اسے ترک کرنے والا معاذ الله شفاعت سے
محروم ہو جائے گا ۔ حضور علیہ اسلام کے اس فرمان کی وجہ سے جو میری سنت کو ترک کریگا
اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔(رد المحتار جلد 1 صفحہ 232)
تو اس سے پتا چلا کہ سنت مؤکدہ کو ترک کی عادت بنا لینا
گناہ ہے اگر یوں کہوں تو میری بات غلط نہ ہوگی حضور علیہ السلام سے محبت کا تقاضہ
تو یہ ہے کہ مؤکدہ و غیر مؤکدہ سب ہی سنتوں پر عمل کی عادت بنائی جائے۔ اور
تو ان احادیث سے ہمیں پتا چلا کہ ہمیں آقا کریم علیہ
السلام کی ہر ہر سنتوں سے محبت کرنی ہے اور اسکو اپنی زندگی میں عملی جامہ بھی
پہنانا(عمل کرنا) ہے اور ایک حضور علیہ السلام کے غلام اور امتی ہونے کا حق بھی یہی
ہے کہ غلام اپنے آقا کی ہر ادا کو اپنانے کی کوشش کرے۔ اللہ کریم ہم تمام کو حضور
علیہ السلام کی سنتوں سے محبت کرنے اور اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق رفیق مرحمت
فرمائے آمین۔
Dawateislami