اویس
علی عطاری(درجہ ثانیہ جامعۃ المدينہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
دینِ
اسلام کی اساس دو چیزوں پر ہے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت۔ سنتِ نبوی محض
چند افعال کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآنِ کریم کی عملی تفسیر اور ہدایت کا وہ روشن
راستہ ہے جس پر چلنا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت اور
مغفرت کو اتباعِ رسول ﷺ سے مشروط کر دیا ہے۔
موجودہ دور میں جہاں نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، وہیں شعوری یا لاشعوری
طور پر سنتِ رسول ﷺ سے دوری اور اسے پسِ پشت ڈالنے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ سنت
کو ترک کرنا محض ایک عمل کو چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ یہ گمراہی کی پہلی سیڑھی اور
بارگاہِ رسالت سے محرومی کا سبب ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں سنت سے اعراض کرنے والوں
کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں، کیونکہ جو راستہ سنتِ مطہرہ سے ہٹ جائے، وہ سیدھا
ہلاکت اور بدعت کی طرف جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی اہم پہلو کا جائزہ لیں
گے کہ فرمانِ رسول ﷺ کی روشنی میں سنت کو چھوڑنے کے کیا نقصانات اور وعیدیں بیان کی
گئی ہیں۔
(1)سنت سے اعراض کرنے والے کا
انجام:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے میری سنت سے منہ موڑا، وہ مجھ سے نہیں (یعنی
اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)۔(صحیح بخاری، حدیث: 5063)
(2)بدعت اور سنت کے ترک پر وعید:نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز نکالی جو اس میں سے نہیں ہے،
تو وہ مردود ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 2697)
وضاحت:
سنت کو چھوڑ کر نئی راہیں نکالنا گمراہی کا باعث ہے۔
(3)سنت کی پیروی میں نجات:آپ ﷺ نے ایک
طویل حدیث میں ارشاد فرمایا:تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات
دیکھے گا، پس تم میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم
پکڑنا، اسے داڑھوں سے مضبوطی سے تھام لینا (یعنی مضبوطی سے عمل کرنا)۔(جامع ترمذی،
حدیث: 2676)
(5) اطاعتِ رسول
اور جنت: آپ ﷺ نے فرمایا:میری تمام امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔
عرض کیا گیا: یارسول اللہ! انکار کس نے کیا؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں
داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے (جنت سے) انکار کیا۔(صحیح بخاری، حدیث:
7280)
"اے اللہ!
ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کی سنتوں کو اپنانے اور ان پر استقامت کے ساتھ عمل کرنے کی
توفیق عطا فرما، اور ہمیں سنتوں کو چھوڑنے کی نحوست اور گمراہی سے محفوظ رکھ۔ آمین
بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami