جس طرح سنت پر عمل کرنے پر دنیا و آخرت میں بہت سے فوائد و برکات حاصل ہوتے ہیں اسی طرح سنت کو ترک کرنے پر احادیث مبارکہ میں بہت سی وعیدات آئی ہیں۔ ہمارے اسلاف کرام ہر ہر سنت کو اپناتے تھے وہ یہ نہیں سوچتے تھے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ چنانچہ :

دیکھا آپ نے ان کا سنت پہ عمل کا کیسا جذبہ تھا اور جو نفس و شیطان کے چکر میں آکر سنت کو ترک کرتے ہیں جیسا کہ شوشل میڈیا میں آج کل ایسے لوگ آرہے ہیں جو سنت مؤکدہ کے ترک کو بھی قابل گرفت نہیں کہہ رہے ان کے لئے لمحہ فکریہ ہے وہ یہ احادیث ملاحظہ فرمائیں:

سنتِ مؤکّدہ کو ترک کرنے والے پر اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کی لعنت کی وعید ہے۔(مستدرک ، 3 / 375 ، حدیث : 3995 ، الحدیقۃ الندیۃ(مترجم) ، ص443)

اس کےترک پر معاذَاللہ شفاعتِ مصطفٰے ﷺ سے محرومی کی وعیدبھی ہے۔ (بہارشریعت ، حصہ4 ، ص662)

اس کے ترک کی عادت بنانے سے آدمی گناہ گار اور فاسق ہوتا ہے۔(ملفوظات اعلی حضرت ، ص288)

اس کاترک گمراہی کاسبب ہے۔ (مسلم ، ص257 ، حدیث : 1488 ، بہارشریعت ، حصہ4 ، ص662)

اس کے ترک پر خاتمہ خراب ہونے کااندیشہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح ، 2 / 78)

(معاذَاللہ) گھٹیا سمجھتے ہوئے اور ہلکا جان کر سنتوں سے منہ موڑنے والا یا ان میں سے بعض کو چھوڑنے والا کافر اور ملعون ہے۔(مرقاۃ المفاتیح ، 1 / 311 ، تحت الحدیث : 109)

سنتوں کو ترک والوں کے لئے ان احادیث مبارکہ میں عبرت ہی عبرت ہے ایسے علم کا کیا فائدہ جو باعمل نہ بنا سکے ۔ اب داڑھی مبارک جو کہ سنت ہے اور واجب کا درجہ رکھتی ہے ، داڑھی نہ رکھنے والوں یا ایک مٹھی سے گھٹانے والوں کے لئے امیر اہلسنت تحریر پڑھتے ہیں:جب میدانِ قِیامت میں سب جمع ہوں گے ، نفسی نفسی کا عالم ہوگا، ماں بیٹے سے اور بیٹا باپ سے بھاگ رہا ہوگا ۔ اُس وقت ایک ہی تو ذاتِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہوگی جو عاصیوں کی اُمّیدگاہ ہوگی ۔ اسی سرکار نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ اقدس میں سب کو حاضِری دینی ہوگی ۔ یاد رکھئے ! جو جس حال میں مرے گا، اُسی حال میں قِیامت کے روز اٹھایا جائے گا ۔ داڑھی والا، داڑھی کے ساتھ اٹھے گا اور داڑھی مُنڈا، داڑھی مُنڈا ہی اٹھے گا ۔ اے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّت کو پامال کرنے والو! اگر پیارے سرکار شَہَنشاہِ ابرارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ سے اِستِفسار فرما لیا : ’’کیا تم مجھ سے مَحَبَّت کرتے رہے ہو؟‘‘ ظاہر ہے انکار تو کرہی نہیں سکتے ، یہی عرض کریں گے ، : یارسولَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! آپ ہی ہمارے سب کچھ ہیں ، ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنے ماں باپ، مال، اولاد سب سے عزیز تر سمجھتے ہیں ۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !ہم تو دنیا میں جھوم جھوم کر عرض کیا کرتے تھے ۔

مِرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمتِ عالَم! میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لئے

سب کچھ سن کر (اﷲ عَزَّوَجَلَّ نہ کرے ) آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بالفرض یہ ارشاد فرمائیں : ’’اے میرے غلامو! اگر واقعی تم مجھے ماں ، باپ اور مال و اولاد سب سے عزیز تر سمجھے تھے اور صرف میری ہی خاطر دنیا میں زندہ تھے ۔ نیز میرے نام پربِکنے بلکہ جان تک دینے کے لئے تیاّر تھے تو پھر آخِر کیا وجہ تھی کہ شکل و صورت میرے دشمنوں جیسی بنائے پھرتے تھے ؟کیا تم تک میرے یہ ارشادات نہ پہنچے تھے : (1)’’مونچھیں خوب پست (یعنی چھوٹی) کرو اور داڑھیوں کو مُعافی دو (یعنی ان کو بڑھنے دو) اور یہودیوں کی سی صورت مت بناؤ ۔ ‘‘( شرح معانی الآثار ، للطحاوی ج۴ ص۲۸دار الکتب العلمیۃ بیروت)

(2)’’جو میری سنّت اختیار کرے ، وہ میرا اور جو میری سنّت سے منہ پھیرے ، وہ میرا نہیں ۔ ‘‘(کنز العمال ج ۸ ص۱۱۶ رقم ۲۲۷۴۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

(3) ’’جو میری سنّت پر عمل نہ کرے ، وہ مجھ سے نہیں ۔ ‘‘ (سنن ابنِ ماجہ ج۲ ص۴۰۶ حدیث ۱۸۴۶ دار المعرفۃ بیروت)

اگر آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ روٹھ گئے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! فیشن پر مر مٹنے والو! یہ ارشاداتِ عالیہ یاد دلانے کے بعد اگر خدانخواستہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ روٹھ گئے تو آپ کیا کریں گے ؟ کس کے دروازے پر فریاد کریں گے ؟ کس کے دروازے پر شفاعت کی بھیک لینے جائیں گے ؟ کون اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قَہروغَضَب سے بچانے والا ہوگا؟ ابھی موقع ہے ، جب تک سانس باقی ہے ، وقت ہے ، جھٹ پٹ توبہ کرلیجئے ، اپنے چِہرہ کو پیارے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی میٹھی میٹھی سنّت سے آراستہ کرلیجئے ، اپنے چِہرے پرمَحَبَّت کی نشانی سجالیجئے ۔ (کالے بچھو، ص:13)

اللہ پاک ہمیں سنتوں کا سچا پکا عامل بنائے اور ایسے نام نہاد مفکروں سے اور ان کے شر سے محفوظ فرمائے آمین

دیتا ہوں تجھے وَاسِطہ میں پیارے نبی کا اُمَّت کو خدایا رہِ سنّت پہ چلا دے