ابورضا
دل جان ٹھٹوی (درجہ دورۃ الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ،کراچی ،پاکستان)
سنتِ رسول سے مراد آپ ﷺ کے وہ اقوال، افعال، تقریرات اور
صفات ہیں جو آپ نے دین کے بارے میں ظاہر فرمائی۔ قرآن مجید کے بعد سنت ہی اسلام کا
دوسرا بڑا ماخذ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں حکم دیا:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ
اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ
ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(۲۱)
ترجمہ کنز
الایمان: بےشک تمہیں
رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور
اللہ کو بہت یاد کرے۔ (سورۃالاحزاب،21)
اور فرمایا:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ
اتَّقُوا اللّٰهَؕ-
ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں
وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو۔(سورۃالحشر:7)
سنت ترک
کرنے کی مذمت پر احادیث:
(1)
سنت سے بےرغبتی ایمان کی علامت نہیں:حضرت انس
بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ یعنی جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔ (صحیح بخاری،
کتاب النکاح، حدیث: 5063)
اس حدیث میں ”فلیس منی“ کا مطلب ہے کہ وہ میرے طریقے پر
نہیں میری امت کا حقیقی فرد نہیں یا اس کا تعلق مجھ سے منقطع ہو گیا۔ یہ بہت سخت
وعید ہے اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے اللہ تبارک وتعالی ہمیں حضور ﷺ کی تمام سنتوں پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
(2)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ نبی ﷺ نے فرمایا:كُلُّ
أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ
وَمَنْ يَأْبَى قَالَ:مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ
أَبَى
ترجمہ: میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے
انکار کیا۔صحابہ نے پوچھا: انکار کون کرتا ہے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں
جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔
(صحیح بخاری، حدیث: 7280)
(3)حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:فَعَلَيْكُمْ
بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا
بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ
فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌترجمہ: تم میری سنت اور میرے خلفائے راشدین مہدیین کی
سنت کو لازم پکڑو، اسے اپنی داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑو، اور نئے ایجاد کردہ امور سے
بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔(سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ،
حدیث: 4607)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنت چھوڑنے سے انسان بدعات سئیہ
میں پڑ جاتا ہے، اور بدعت سئیہ کا انجام جہنم ہے کیوں کہ بنیادی طور پر بدعت کی دو
قسمیں ہیں :
(1) بدعتِ حسنہ: ایسا نیا کام جو قرآن و حدیث کے مخالف
نہ ہو اور مسلمان اسے اچھا جانتے ہوں، تو وہ کام مَردُود اور باطِل نہیں ہوتا۔
مثلاً: اسلامی سرحدوں کی حفاظت کے لئے قلعے بنانا، مدارس قائم کرنا اور عِلمی کام
کی تصنیف کرنا وغیرہ ۔
(2)بدعتِ سَیِّئَہ:
دین میں ایسا نیا کام کہ جو قرآن و حدیث سے ٹکراتا ہو۔ مذکورہ بالا حدیثِ پاک میں
اسی کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ بدعت کی تقسیم کرتے ہوئے علّامہ بَدْرُ الدِّین عینی
رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 855ھ) فرماتے ہیں:’’ثم البدعۃ علی نوعین: ان کانت مما تندرج تحت
مستحسن فی الشرع فھی حسنۃ وان کانت مما تندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی مستقبحۃ‘‘ ترجمہ: بدعت کی دو قسمیں ہیں: (1)اگر وہ شریعت میں کسی
اچھے کام کے تحت ہو، تو بدعتِ حسنہ ہوگی۔ (2)اگر شریعت میں کسی قبیح امر (بُرے
کام) کے تحت ہو، تو بدعتِ قَبیحہ یعنی سیئہ ہو گی۔ (عمدۃ القاری،ج 8،ص245، تحت
الحدیث:2010)
جبکہ علّامہ
ابنِ حَجر عَسْقَلانی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 852ھ) فرماتے ہیں: ”قال الشافعی البدعۃ بدعتان محمودۃ ومذمومۃ فما
وافق السنۃ فھو محمودۃ وما خالفھا فھو مذموم“
ترجمہ:امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:بدعت دو اقسام پرمشتمل ہے:
(1)بدعتِ محمودہ یعنی حَسَنہ اور (2)بدعتِ مَذْمُومہ یعنی سَیِّئہ۔جو سنّت کے
موافق ہو، وہ بدعتِ محمودہ (جس کی تعریف ہویعنی اچھی) اور جو سنّت کے خلاف ہو، وہ
بدعتِ مَذْمومہ(جس کی مذمت کی جائے یعنی بُری) ہے۔(فتح الباری،ج14،ص216،تحت الحدیث
:7277)
بدعت کی یہی دو قسمیں رسولِ اکرم ﷺ کےاس فرمان سے بھی
ماخوذ ہیں: مَنْ
سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ لَہٗ
مِثْلُ اَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَایَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْءٌ وَمَنْ
سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً فَعُمِلَ بِھَا بَعْدَہٗ کُتِبَ
عَلَیْہِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِھَا وَلَا یَنْقُصُ مِنْ اَوْزَارِھِمْ
شَیْءٌ ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی اچھا کام جاری کیا
اور اُس کے بعد اُس پر عمل کیا گیا تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کی طرح اَجْر ملے
گا اورعمل کرنے والوں کے اَجْر و ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے اسلام
میں کوئی بُرا طریقہ نکالااور اُس کے بعد اُس پرعمل کیا گیا تو اسے اس پر عمل کرنے
والوں کی مانند گناہ ملے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہ کی
جائے گی۔( مسلم،ص394،حدیث:2351)
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami