اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان بنایا اور اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا اور ایک مضبوط دین ،دین اسلام عطاء فرمایا اور قرآن مجید جیسی عظیم کتاب عطاء فرمائی۔جان لیں کہ دین اسلام کی بنیاد دو چیزوں پر ہے(1) قرآن مجید(2) سنت مصطفیٰ ﷺ

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور مکمل ضابطہ حیات ہے اور سنت رسول ﷺ کا فرمان ،طریقہ اور عمل ہےاور ضابطہ حیات کی عملی تفسیر ہے ۔قرآن مجید کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا سنت کے بغیر ممکن نہیں اور نماز، روزے، زکوٰۃ ،حج ،معاملات اور اخلاقیات الغرض زندگی کا کوئی شعبہ بھی سنت کے بغیر مکمل نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور محبت سے حصہ حاصل کرنے کے لیے پیارے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنا ضروری ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)

ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔(پارہ 3،سورۃ آل عمران، آیت 31)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ جب ہی سچا ہوسکتا ہے جب آدمی سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع کرنے والاہو اور حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اطاعت اختیار کرےاور بتایا گیا کہ محبت ِالہٰی کا دعویٰ حضورسید ِکائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع اور فرماں برداری کے بغیر قابلِ قبول نہیں۔ جو اس دعوے کا ثبوت دینا چاہتا ہے وہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی غلامی اختیار کرےاور اس کو ترک کرنا دین کے بڑے حصے کو ترک کرنے کے برابر ہے ۔اور جنت کو حاصل کرنا رسول اللہ ﷺ اتباع پر بھی موقوف ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے ۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!منکر کون ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ااور جس نے میری نافرمانی کی وہ منکر ہوا۔ ‘‘(ریاض الصالحین،جلد 2، حدیث 158)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۔(صحیح البخاری حدیث 5063)

اس سے معلوم ہوا کہ سنت کو حقیر جاننا یا ترک کرنا گمراہی بدعت اور رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کا سبب ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی سنت پر بھی عمل کرتے تھے ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن وسنت پرعمل پیرا ہوکر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔ آمین