حضور ﷺ کی سنت ہمارے لیے ایک انمول نمونہ ہے ، اسی لیے احادیث میں سنت پر عمل پیرا ہونے ، سنت کو مضبوطی سے تھامنے کے حوالے سے بہت تاکید فرمائی گئی ہے ، جبکہ اس کے برعکس سنت کو ترک کرنے ، سنت سے اعراض کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے ۔ لہذا ہمیں ایک مسلمان ہونے اور حضور نبی کریم ﷺ کا امتی ہونے کی حیثیت سے سنتوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے ۔ ترکِ سنت پر احادیث ملاحظہ کیجئے ۔

(1) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو ہمارے دین میں وہ طریقہ ایجاد کرے جو اس دین سے نہیں وہ مردود ہے ۔

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرآن و سنت کے مخالف کوئی بھی عمل ہو ، جس سے سنت اٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مردود اور ایسے عمل بھی باطل ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 ، حدیث 140 )

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے میری امت کے بگڑتے وقت میری سنت کو مضبوط تھاما تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ہے ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 176)

(3) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا یقیناً بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد مصطفی کا طریقہ ہے اور بدترین چیز دین کی بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 141)

(4) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا منکر کے سوا میری ساری امت جنت میں جائے گئی عرض کی گئی منکر کون ہے ؟ فرمایا جس نے میری فرمانبرداری کی بہشت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی منکر ہوا ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 143)

(5) حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑی جب تک انہیں مضبوط تھامے رہو گئے گمراہ نہ ہو گئے ۔(1) اللہ کی کتاب(2) اس کے پیغمبر کی سنت ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 186)

احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ بات سیکھنے کو ملی کہ حضور ﷺ کی کوئی بھی چھوٹی بڑی سنت ہو عمل کرنا چاہیے اور ترکِ سنت سے ہر دم بچتے رہنا چاہیے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ مالک کریم ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین