محمد
شیراز رضا عطاری(درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کے لیے
کامل رہنمائی موجود ہے۔ اس رہنمائی کا بنیادی سرچشمہ قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ حضور
نبی اکرم ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے۔ سنت دراصل نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات
کا مجموعہ ہے جو امتِ مسلمہ کے لیے بہترین نمونہ اور کامل رہبر کی حیثیت رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآنِ مجید میں بارہا اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایا ہے، جس سے یہ بات
واضح ہو جاتی ہے کہ سنت کی پیروی دینِ اسلام کا لازمی جزو ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری
تعالیٰ ہے:
وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا
نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-
ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں
وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(الحشر:7)
اس آیتِ
مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے ہر حکم کی اطاعت واجب ہے اور آپ ﷺ کی
نافرمانی سخت عذاب کا سبب بن سکتی ہے۔
احادیثِ
مبارکہ میں بھی سنت پر عمل کرنے اور اسے مضبوطی سے تھامنے کی بڑی تاکید آئی ہے،
جبکہ ترکِ سنت کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ:
(1) رسولِ
اکرم ﷺ نے فرمایا:من رغب عن سنتی فلیس منییعنی جس
نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063)
(2) حضرت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کوئی
اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہش میری لائی ہوئی شریعت کے تابع
نہ ہو جائے۔ (شرح السنۃ للبغوی، حدیث: 110)
ان دلائل
سے واضح ہوتا ہے کہ سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے، جبکہ ترکِ
سنت انسان کو گمراہی اور محرومی کی طرف لے جاتا ہے۔
آخرکار ہمیں
یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سنتِ نبوی ﷺ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ ہماری پوری زندگی
کے لیے رہنمائی ہے۔ جو شخص سنت کو اپناتا ہے وہ درحقیقت حضور ﷺ کی محبت اور اطاعت
کا ثبوت دیتا ہے، اور جو سنت سے منہ موڑتا ہے وہ اپنے آپ کو ایک عظیم نعمت سے
محروم کر لیتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سنت کو زندہ
کریں، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں سنت پر عمل کرنے اور اسے عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین
Dawateislami