احمد
رضا ہاشمی (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس کی بنیاد قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ پر قائم ہے۔ سنتِ
رسول ﷺ دراصل قرآنِ پاک کی عملی تفسیر ہے۔ جو شخص سنت کو اپناتا ہے، وہ درحقیقت دینِ
اسلام کو مکمل طور پر اختیار کرتا ہے، جبکہ سنت کو چھوڑ دینا (ترکِ سنت) گمراہی
اور نقصان کا سبب بنتا ہے۔
رسول اللہ
ﷺ نے سنت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ترجمہ: "جس نے میری
سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔"( صحیح مسلم: 1401)
یہ حدیث
مبارکہ نہایت سخت تنبیہ پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر سنت
کو چھوڑ دیتا ہے، وہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دور ہو جاتا ہے۔ ایک سچے مسلمان کے
لیے یہ بہت بڑا نقصان ہے ۔
ایک اور
حدیث میں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:كُلُّ
أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى ۔۔مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَىترجمہ: میری
ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جو انکار کرے۔ عرض کیا گیا: کون انکار کرے
گا؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو میری نافرمانی کرے گا
اس نے انکار کیا۔(صحیح بخاری: 7280)
یہ حدیث
واضح کرتی ہے کہ سنت پر عمل کرنا دراصل نبی کریم ﷺ کی اطاعت ہے، اور اطاعت جنت کا
راستہ ہے، جبکہ نافرمانی (یعنی سنت کو چھوڑ دینا) ہلاکت کا سبب ہے۔
یہ حدیث
اس بات پر زور دیتی ہے کہ دین میں اپنی طرف سے نئی چیزیں شامل کرنا (بدعت) اور سنت
کو چھوڑ دینا دونوں ہی قابلِ مذمت ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ صرف وہی راستہ
اختیار کرے جو نبی کریم ﷺ نے دکھایا۔
ترکِ سنت کے نقصانات
دین میں
کمی واقع ہونا:سنت کے بغیر دین مکمل نہیں رہتا، کیونکہ سنت قرآن کی عملی شکل ہے۔
گمراہی کا
خطرہ:سنت کو چھوڑنے والا آہستہ آہستہ دین کے اصل راستے سے ہٹ جاتا ہے۔
اللہ اور
رسول ﷺ کی ناراضی:سنت سے دوری دراصل نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے دوری ہے۔
معاشرتی
بگاڑ:جب سنتیں ختم ہوتی ہیں تو بدعات اور برائیاں عام ہو جاتی ہیں۔
Dawateislami