محمد
انیس عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ سنتِ نبوی ﷺ کو بھی بنیادی حیثیت
حاصل ہے۔ سنت دراصل حضور نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کا مجموعہ ہے،
اور یہی سنت دین کی عملی تصویر ہے۔ لہٰذا سنت کو چھوڑنا (ترکِ سنت) نہایت خطرناک
اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
ترکِ سنت کا مفہوم:ترکِ سنت
سے مراد یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر نبی کریم ﷺ کے طریقوں کو چھوڑ دے، ان کی پیروی
نہ کرے یا انہیں غیر اہم سمجھے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی اطاعت
کو اپنی اطاعت قرار دیا:مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ
ترجمہ کنزالایمان:جس نے رسول کا حکم
مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔(سورۃالنساء:80)
ایک اور
مقام پر ارشاد ہے:وَ مَاۤ
اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-
ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں
وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(سورۃ الحشر: 7)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا دراصل
اللہ کے حکم سے روگردانی ہے۔
نبی کریم ﷺ
نے ترکِ سنت پر سخت تنبیہ فرمائی:مَنْ رَغِبَ عَنْ
سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي
ترجمہ: جو
میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ میں سے نہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 5063)
ایک اور
حدیث میں فرمایا:عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ
الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ
ترجمہ: تم
پر میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے۔(سنن ابی داود، حدیث: 4607)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت کو چھوڑنا ایمان
و محبتِ رسول ﷺ کے خلاف ہے۔
ترکِ سنت کے نقصانات:
دین میں
کمزوری:سنت چھوڑنے سے دین کا عملی حسن ختم ہو جاتا ہے۔
بدعات کا
فروغ:جب سنت چھوڑ دی جاتی ہے تو اس کی جگہ بدعات آ جاتی ہیں۔
رسول اللہ
ﷺ کی ناراضی:سنت سے دوری، نبی کریم ﷺ کی ناراضی کا سبب بن سکتی ہے۔
آخرت میں
خسارہ:سنت پر عمل نہ کرنے والا اجرِ عظیم سے محروم رہتا ہے۔
سنت پر
عمل کی اہمیت:سنت پر عمل کرنا دراصل نبی کریم ﷺ سے محبت کا ثبوت ہے۔ جیسا کہ قرآن
میں ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب
تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ ۔ (سورۃ آل عمران: 31)
ترکِ سنت
ایک سنگین غلطی اور دین سے دوری کا سبب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو سنتِ
نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ
ہمیں سنت پر عمل کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ
خاتم النبیین و ﷺ
Dawateislami