دینِ اسلام کی بنیاد دو اہم ستونوں پر ہےاللہ عزوجل کی کتاب اور سنتِ رسول اللہ ﷺ۔سنتِ رسول ﷺ محض چند رسومات کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہے اور ایسی راہِ ہدایت ہے جس پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں نت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، وہاں سنتِ رسول ﷺ سے دوری اور اسے معمولی سمجھ کر ترک کر دینے کا رجحان بھی بڑھتا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ جان بوجھ کر سنت کو ترک کرنا یا اسے حقیر سمجھنا محرومی اور گمراہی کا پیش خیمہ ہے۔ اللہ پاک نے آپ ﷺ کے اسوہ کو "اسوۂ حسنہ" یعنی بہترین نمونہ قرار دے دیا، تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر سنتِ رسول ﷺ کو مشعلِ راہ بنایا جائے۔

ترکِ سنت پر وعیدیں:احادیثِ مبارکہ میں سنت کو چھوڑنے والوں کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ ذیل میں چند حدیث پیش کیے جاتے ہیں:

حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری سنت سے اعراض کیا (منہ پھیرا)، وہ مجھ سے نہیں ہے۔

(صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر 5063)

علمائے کرام اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ سنت رسول ﷺ سے اعراض کرنے کا مطلب اسے ناپسند کرنا یا اسے بوجھ سمجھنا ہے۔ جو شخص دانستہ طور پر سنتِ رسول ﷺ کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، وہ کل قیامت کے دن حضور ﷺ کی خصوصی توجہ اور شفاعت سے محروم ہو سکتا ہے۔

وَعَن مَالك بن أنس مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهِ ۔ رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأحضرت مالک بن انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ،پس جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان، حدیث نمبر 186)

آج کل بہت سے لوگ یہ کہہ کر سنت کو چھوڑ دیتے ہیں کہ "یہ کون سا فرض ہے، سنت ہی تو ہے۔" یہ جملہ انتہائی خطرناک ہے۔

سنت کو حقیر سمجھنا ایمان کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب انسان چھوٹی چھوٹی سنتوں (جیسے کھانے پینے کے آداب، لباس کی سنتیں، داڑھی وغیرہ) کو معمولی سمجھ کر چھوڑتا ہے، تو رفتہ رفتہ اس کا دل فرائض و واجبات کے معاملے میں بھی سست ہو جاتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بے سکونی، بے برکتی اور اخلاقی پستی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے شادی بیاہ سے لے کر غمی تک، اور تجارت سے لے کر سیاست تک ہر جگہ سنتِ نبوی کو ترک کر کے غیروں کے طریقے اپنا لیے ہیں۔ جب سنت رخصت ہوتی ہے تو وہاں بدعت اور نفسانی خواہشات ڈیرہ جما لیتی ہیں۔

ترکِ سنت محض ایک عمل کا چھوٹ جانا نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم رشتے کی کمزوری کی علامت ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ تب ہی سچا ثابت ہو سکتا ہے جب انسان کی زندگی سنت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور جہاں جہاں ہم سے سنتیں چھوٹ رہی ہیں، وہاں توبہ کریں اور اتباعِ سنت کا عزم کریں۔

اللہ پاک ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جنہیں کل قیامت کے دن حضور ﷺ کی زیارت اور رفاقت نصیب ہوگی۔ (آمین)