اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سنت دراصل وہ طریقہ ہے جو حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں اختیار فرمایا اور امت کو اس پر چلنے کی تعلیم دی۔ سنت پر عمل کرنا ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے، جبکہ ترکِ سنت انسان کو گمراہی اور دین سے دوری کی طرف لے جاتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں سنت کو مضبوطی سے تھامنے اور اس کے ترک سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔

(1) سنت کی اہمیت:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔(ترمذی: 2678)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سنت سے محبت دراصل حضور ﷺ سے محبت ہے، اور یہی محبت جنت کا راستہ ہے۔

(2) سنت سے روگردانی کی مذمت:ایک اور حدیث میں آتا ہے:جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ میں سے نہیں۔(بخاری: 5063، مسلم: 1401)

یہ حدیث ترکِ سنت کی شدید مذمت بیان کرتی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر سنت کو چھوڑ دیتا ہے، وہ نبی ﷺ کے طریقے سے ہٹ جاتا ہے۔

(3) بدعت اور ترکِ سنت کا تعلق:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ہر نئی چیز (دین میں) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔(مسلم: 867)

جب انسان سنت کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ بدعات کی طرف مائل ہوتا ہے، جو اسے سیدھے راستے سے دور کر دیتی ہیں۔

(4) سنت پر عمل کی تاکید:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم پر میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو۔(ابو داؤد: 4607، ترمذی: 2676)

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کامیابی صرف سنت پر عمل کرنے میں ہے۔

(5) قیامت کے دن ندامت:ایک حدیث میں آیا ہے کہ کچھ لوگ حوضِ کوثر سے دور کر دیے جائیں گے، تو نبی ﷺ فرمائیں گے: "یہ میرے امتی ہیں"مگر جواب ملے گا"آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعتیں نکالیں۔"(بخاری: 6582)

یہ ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو سنت کو چھوڑ کر نئے طریقے اختیار کرتے ہیں۔

(6) سنت چھوڑنے کے نقصانات:ترکِ سنت سے دل سخت ہو جاتا ہے، ایمان کمزور پڑ جاتا ہے، اور انسان آہستہ آہستہ دین سے دور ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد دنیا میں بھی بے سکونی کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی خسارے میں رہتے ہیں۔سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ یہ نہ صرف دنیا میں کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں نجات کا بھی راستہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سنت کو اپنائیں اور ترکِ سنت سے بچیں۔ کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چلیں اور اپنی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالیں۔