فراز
عزیز پنہور (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
فساد فی
الارض سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو زمین میں امن، عدل اور نظامِ حیات کو بگاڑ دیں۔
یہ ایک جامع اصطلاح ہے جس میں ہر وہ عمل شامل ہے جو انسانی زندگی کے توازن کو خراب
کرے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرے۔ قرآنِ مجید نے بار بار انسان کو فساد پھیلانے
سے روکا اور اصلاح و بھلائی کی تلقین فرمائی ہے، کیونکہ ایک پرامن معاشرہ ہی انسان
کی کامیابی کی بنیاد ہوتا ہے۔ ظلم، ناانصافی، قتل، دھوکہ اور بدامنی سب فساد کی
مختلف صورتیں ہیں۔ ایسے اعمال نہ صرف معاشرے کو تباہ کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی
ناراضی کا سبب بھی بنتے ہیں۔
اسلام ایک
پرامن اور منصفانہ نظامِ زندگی سکھاتا ہے جس میں ہر طرح کے فساد کی مذمت کی گئی
ہے۔ یہ دین انسان کو ذاتی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر اصلاح کا حکم دیتا ہے۔ لہٰذا
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ خود بھی فساد سے بچے اور معاشرے میں بھلائی کو فروغ
دے۔ قرآن و حدیث میں مفسدین کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں جو اس کی سنگینی کو
ظاہر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں کئی مقامات پر فساد فی الارض کی مذمت کی
گئی ہے۔
منافقوں کے طرزِ عمل کو بیان کرتے
ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)
ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں
فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 11)
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ منافقین اپنے فساد کو بھی اصلاح کا نام دیتے ہیں۔ وہ اپنے اعمال
کو اچھے الفاظ میں پیش کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ
معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ
عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔
ہمارے معاشرے میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں۔
آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام کام، اور جدیدیت کے نام پر دینی
اصولوں پر اعتراض کرنایہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔
ایک اور آیت
میں اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد
فساد برپا نہ کرو ۔(الاعراف، 56)
یعنی انبیاء
علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے جب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہدایت اور عدل کا نظام
قائم کر دیا تو اس کے بعد اسے بگاڑنا بہت بڑا جرم ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس
نظام کی حفاظت کرے اور اس میں بہتری لانے کی کوشش کرے، نہ کہ اسے خراب کرے۔
اللہ تعالیٰ
فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز
العرفان: اور زمین میں فساد نہ کر، بے شک الله فسادیوں کو
پسند نہیں کرتا۔ (القصص: 77)
اسی طرح
فرمایا :وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ(۱۸۳)
ترجمہ کنز
العرفان: اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔
(الشعراء: 183)
ان آیات
سے واضح ہوتا ہے کہ فساد ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی محبت سے
محروم کر دیتا ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو ہر حال میں اس سے بچنا چاہیے۔ فساد صرف
بڑے جرائم تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے اعمال بھی اگر معاشرتی بگاڑ کا سبب بنیں تو وہ
بھی فساد میں شامل ہو سکتے ہیں، جیسے جھوٹ، دھوکہ، وعدہ خلافی اور دوسروں کے حقوق
پامال کرنا۔ان تعلیمات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو امن، عدل اور
بھلائی کے اصولوں پر قائم رکھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی برائیوں سے بچیں
اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیں۔ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں اصلاح،
محبت اور انصاف کو فروغ دے اور ہر قسم کے فساد سے دور رہے۔
Dawateislami