میں آپ کے
سامنے کچھ قرآنی آیات مختصر تفسیر کے ساتھ رکھتا ہوں جو کہ فساد کی مذمت پر مشتمل
ہیں۔تا کہ ان وعیدات کو پڑھ سن کر ہم دنیا میں فساد کرنے سے بچیں اور فساد کرنے
والوں کو پہچان کر ان کے فساد کا مقابلہ کر سکیں۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)
ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں
ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔
(البقرۃ:11،12)
منافقوں
کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں
اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے
نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی
کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب
و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا
انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔
پھر ارشاد
فرمایا: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-
ترجمہ کنز
الایمان: اور زمین
میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے ۔(الاعراف،آیت،
56)
یعنی اے
لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت
فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم
و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔
تو پیارے
اسلامی بھائیو! ہمیں ان آیات کو سامنے رکھ کر اپنی اصلاح کی کوشش کرنی ہے اور فساد
اور فسادیوں دونوں سے پچنا ہے۔اللہ وحدہ لاشریک سے دعا ہے کہ وہ عمل کی توفیق عطا
فرمائے۔
Dawateislami